انوارالعلوم (جلد 6) — Page 18
انوار العلوم جلد 4 VI موازنہ مذاہب کی تحقیق سب سے پہلے کرنی چاہئے اور اگر نہیں تو ہندو مسلمان یا سکھ عیسائی موسائی وغیرہ کے جھگڑے فضول ہیں ۔ مذہب کی ضرورت کیا ہے ؟ پس اگر کوئی سوال سب سے پہلے حل کرنے کے قابل ہے تو سی کہ مذہب کی ضرورت کیا ہے اور ہم کسی مذہب کو کیوں مانیں۔ اس کے متعلق میں سب سے پہلے ہر ایک مذہب کے شخص کو یہی نصیحت کروں گا وہ غور کرے کہ وہ جس مذہب کا پابند ہے کیوں وہ اس کو مانتا اور دوسرے مذاہب کی تکذیب کرتا ہے؟ ہر ایک مذہب کے آدمیوں کو چاہئے کہ وہ غور کریں اور غور کرنے کے بعد جس مذہب کو سچا پائیں اس کو قبول کریں ۔ اور جس کو سچا نہ پائیں خواہ وہ پہلے اسی کی طرف منسوب ہوں اس کو رد کریں۔ میں نے چونکہ اس مسئلہ پر خود غور کیا اور اسلام میں بمقابلہ دیگر مذاہب کے خوبیاں پائیں اور میں نے معلوم کیا کہ مذہب کی غرض کو کسی مذہب پورا کرتا ہے اس لئے میں نے اس کو قبول کیا اس لئے میں اس کی طرف سے کھڑا ہوا ہوں ۔ میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے نزدیک ہر مذہب کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنا دعوئی اور دلائل خود پیش کرے ۔ یہ نہیں کہ دعویٰ وہ کرے اور ہیں کہیں اور سے اس کے لئے لائی جائیں۔ خدا اپنی ذات اور اپنے رسولوں کو خود منواتا ہے اگر خدا ہے تو اس پر حق ہےکہ وہ اپنی رسولوںکو صفات آپ ظاہر فرمائے اور ہم سے اپنی ذات منوائے اسی طرح اگر وہ کہتا ہے کہ فلاں شخص اُس کا رسول ہے تو وہ دلائل اس کو دے جس کے ذریعہ سے ہم اُس کو مانیں اور اسی طرح دیگر مسائل کے لئے ہے کہ وہ خود بتائے ۔ اسلام کا دعویٰ ہیں اس عقیدے کے مطابق میں اسلام کی صداقت کے دلائل قرآن کریم کے ہی بتائے ہوئے بیان کروں گا ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے اور اس لئے اس کی صداقت کے دلائل خود پیش کرتا ہے۔ چنانچہ یہ رکوع جو میں نے پڑھا ہے اس میں اللہ فرماتا ہے ۔ اللہ نُورُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ (النور: ۳) کو اللہ آسمان و زمین کا نور ہے ۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ ایک طاق ہو۔ اور اس کے پیچھے کوئی سوراخ نہ ہو۔ اس کے اندر چراغ ہو۔ ایسے طاق کے چراغ کی روشنی ایک طرف پڑتی ہو۔ اس سے روشنی محفوظ ہو کہ جدھر پڑتی ہے بہت زیادہ پڑتی ہے اور چراغ ایک گلوب سے ڈھکا ہوا ہے اور گلوب بھی نہایت صاف اور مجلی ہے جس سے روشنی اور بڑھ جاتی ہے اور اس کی روشنی تاریے