انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 302

تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِہِ الْمُلْكُ۰ۡوَھوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوۃَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۰ۭ وَھوَالْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۰ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ۰ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ۰ۙ ہَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِـئًا وَّھوَحَسِيْرٌ (الملک:۲تا ۵) وہ خدا جس کے ہاتھ میں سب بادشاہت ہے۔بہت برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہےجس نے موت و زندگی کو پیدا کیا ہے تا کہ وہ دیکھے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے کام کر رہے ہیں۔تو خدا کی پیدا کردہ چیزوں میں کوئی رخنہ نہیں دیکھے گا۔اس امر کو دیکھ اور پھر اپنی نظر کو پھر اپھرا کر دیکھ۔کیا تجھے کوئی بھی نقص نظر آتا ہے۔(یعنی صحیح حاجت ہو اور اس کے پوا کرنے کا سامان نہ ہو)پھر دوبارہ اپنی نظروں کو چکر دےمگر وہ پھر بھی ناکام اور تھک کر واپس آجائیں گی۔یعنی کل کائنات عالم میں ایک ایسا نظام معلوم ہوتا ہےجس میں کوئی بھی نقص نہیں۔ایک لمبا سلسلہ قوانین کا جاری ہے جو کہیں بھی ٹکراتا نہیں۔کیا یہ آپ ہی آپ ہوسکتا ہے؟ نہیں بلکہ یہ نظام دلیل ہے کہ ایک ایسی ہستی موجود ہےجو بالا رادہ خالق ہے اور مالک ہے اور غالب ہے بخشنے والی ہے۔پہلا اعتراض اس دلیل کے متعلق بعض اعتراض کئے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں اوّل بعض چیزوں کے متعلق تو انتظام پایاجاتا ہے مگر بعض میں نہیں۔مثلاً یہ درخت جو جنگلوں میں اُگے ہوئے ہیں یا یہ جانور جو چلتے پھرتے ہیں اور یہ پرندے جو اڑتے پھرتے ہیں یہ انسان کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ان میں سے دو چار کھانے کے قابل ہیں۔لیکن باقی لغو ہیں۔سانپ بچھو اورایسے ہی موذی جانور۔زہریلے درخت اور پودے کیا کرتے ہیں؟ ان کا انسان کے فائدہ کے لئےکوئی کام نہیں ہے۔جواب اس اعتراض کا مفصل جواب تو صفات باری کے بیان میں آئے گا۔یہاں مجمل طور پر بتاتاہوں کہ ان جانوروں کی پیدائش میں نے انتظامی نہیں بلکہ یہ انسان کیلئے خزانے ہیں جو ضرورت کے وقت کام آتے ہیں اور یہ جانور وغیرہ جن کو لغو کہا جاتا ہے ضرورت پر بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔مثلاً سانپ ہی ہے۔اس کا زہر دوائیوں میں کام آتا ہے۔اس طرح بچھو سےدوائیاں بنتی ہیں اور کئی ایسی چیزیں ہیں جن پہلے لغو اور فضول سمجھا جاتا تھا مگراب ان کو بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔بات یہ ہے کہ اس قسم کی چیزیں انسا ن کے لئے خزانے ہیں میں سے کوئی ہوا میں رکھ دیا گیا ہے