انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 300

انوار العلوم جلد 4 ۳۰۰ هستی باری تعالی تا معلوم ہو کہ دنیا کیونکہ پیدا ہوئی ۔ حالانکہ یہ درست نہیں۔ -۲- اگر یہ درست بھی ہو کہ خدا تعالیٰ کے وجود کی تلاش صرف اس وجہ سے تھی کہ تا دنیا کی پیدائش کی حقیقت معلوم ہو جائے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ وہ سوال حل نہ ہوا تو نہ سی ایک نئی حقیقت تو دنیا کو معلوم ہوگئی اور علم کی ترقی بہر حال مفید ہوتی ہے ۔ اگر ایک سوال کے حل کرنے میں ہمیں ایک اور حقیقت معلوم ہو جائے تو کیا ہم اس حقیقت کو اس لئے ترک کر دیں گے کہ جس سوال کو ہم مل کر رہے تھے وہ حل نہیں ہوا ۔ جواب یہ ہے کہ ہم نے فرض کیا ہے کہ دنیا آپ ہی آپ آئی ہے ۔ اس میں بھی تو یہ سوال حل نہ ہوا ۔ اگر اب بھی نہ ہو تو کیا حرج ہے ۔ -۴- چوتھا جواب یہ ہے کہ انسان کو اسی علم کی ضرورت نہیں ہوتی کہ فلاں کام کس طرح ہوا بلکہ چوتھا یہ ہے کہ انسان کواس علم کی ہوتی فلاں نو اس علم کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں کام کس نے کیا۔ پیشوں کے متعلق ہی دیکھ لو اگر ایک شخص خوبصورت چھڑی دیکھتا ہے تو وہ یہی سوال نہیں کرتا کہ یہ کس طرح بنی بلکہ اکثر اوقات وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ یہ کیس نے بنائی ہے اور کہاں بنی ہے ۔ اگر انسان کو ن دونوں سوالوں کا صحیح جواب مل جائے تو اول تو وہ بنانے والے کی قدر کر سکے گا۔ اور دوسرے اگر چھڑی خریدنا چاہے گا تو چھڑی خرید سکے گا ۔ اسی طرح اگر یہ نہ معلوم ہو سکے کہ دنیا کیونکر بنی ہے اور یہی معلوم ہو جائے کہ کس نے بنائی ہے تو بھی یہ علم بہت مفید ہوگا۔ کیونکہ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے تو اس سے کئی راستے فکر کے نئے کھل جائیں گے مثلاً : اول یہ کہ اگر ہم کو معلوم ہو جائے کہ یہ دنیا خدا نے پیدا کی ہے تو ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ دوم یہ کہ ہمیں جو تکالیف پہنچتی ہیں کیا اس کے ذریعہ ہم ان سے بچ سکتے ہیں یا نہیں۔ سوم یہ کہ اگر اس نے ہم کو پیدا کیا ہے تو کس لئے ؟ اور کس مقصد سے؟ تاکہ ہم اپنی پیدائش کی غرض اور مقصد کو پورا کر سکیں ۔ چہارم ۔ ممکن ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے ہیں یہ بھی پتہ لگ جائے کہ دنیا کو اس نے کہ کسی طرح پیدا کیا ہے ۔ کیونکہ کسی چیز کے بنانے والے سے تعلق رکھنے پر جو چیز اس نے بنائی ہو اس کی کےبنانے حقیقت کا بھی پتہ لگ جاتا ہے ۔ کا ہے یہ چار ایسے عظیم الشان سوال ہیں کہ ان کے حل ہونے پر ہماری حالت کچھ سے کچھ بن سکا بن سکتی ہے۔