انوارالعلوم (جلد 6) — Page 295
والا آسمان اوریہ زمین جس میں راستے بنے ہوئے ہیں۔ان کو دیکھ کر کیوں نہ سمجھوں کہ خدا ہے؟ یہ دلیل جو ایک بدوی نے دی پہلے لوگوں کی عقل یہاں تک ہی پہنچی ہے۔دُنیا ایک بڑا مقام ہے جس کے پیدا کرنے والا کوئی ہونا چاہئے۔یہ خیال ان کے لئے کافی تھا۔یہ دلیل گو ہے تو صحیح مگر اس پر اعتراض بھی بہت سے پڑتے ہیں۔لیکن چونکہ عام دلیل ہے اور حقیقتاً صحیح ہے اس لئے قرآنِ کریم نے بھی اس دلیل کو لیا ہے۔جیسا کہ آتا ہے اَفِی اللہِ شَکٌ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (ابراہیم : ۱۱) اے لوگو! کیا تمہیں اس خدا میں شک ہے جس نے آسمانوں اور اس زمین کو پیدا کیا ہے؟ گو یہ دلیل عام ہے لیکن تعجب ہے کہ سب سے زیادہ اس پر لوگ اعتراض جماتے ہیں اور بالکل ممکن ہے کہ اعتراضوں کی کثرت کا موجب اس کا عام ہونا ہی ہو۔پیدائش دنیا کے متعلق لوگوں کے خیال جن لوگوں نے حقیقت عالَم پر غور کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ دُنیاکو دیکھ کر خدا کی ہستی کا نتیجہ نکالنا درست نہیں پہلے سب قسم کے خیالات کو لینا چاہئیےجو دنُیا کے وجود میں آنے کے متعلق پیدا ہوسکتے ہیں پھر ان کا موازنہ کرکے نتیجہ نکالنا چاہئے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں دُنیا کی ابتداء کے متعلق تین خیال پیدا ہوسکتے ہیں۔۱ - یہ کہ دنیا آپ ہی ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔۲ - یہ کہ دنیا نے اپنے آپ کو آپ پیدا کیا۔۳ - یہ کہ کسی نے دُنیا کو پیدا کیا۔پہلے خیال کے یہ معنی ہوئے کہ دُنیا کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہمیشہ سے آپ ہی آپ چلی آرہی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ غیر محدود زمانہ کو ماننا پڑے گا اور یہ انسانی عقل کے لئے محال ہے کیونکہ غیر محدود محدود میں نہیں سماسکتا۔دوسرا خیال کہ دُنیا نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یہ بھی انسانی دماغ میں نہیں آسکتا۔کیونکہ اگر اس بات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ کسی مخفی ضرورت یا خواہش کےماتحت ممکن الوجود نے وجود کا جامہ پہن لیا اور اس بات کا تسلیم کرنا ناممکن ہے۔کیونکہ اس صورت میں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کوئی چیز طاقت خلق بالقوۃ رکھتی تھی پھر وہ بالفعل ظاہر ہوگئی اوراگر اس بات کو مانا جائے تو دو سوال پیدا ہوجاتے ہیں۔پہلا سوال یہ کہ جو چیز اپنے اندر ظہور کی طاقت رکھتی تھی۔اگر وہ کوئی چیز تھی تو دنیا کی پیدائش کی