انوارالعلوم (جلد 6) — Page 286
اس دلیل کو پیش کیا ہے۔فرماتا ہے۔اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَافِیْھَا نَذِیْرٌ(الفاطر : ۲۵) کہ کوئی قوم دُنیا کی ایسی نہیں جس میں میرے پکارنے والے نہیں پھر گئے اور یہ نہیں بتا گئے کہ مَیں ہوں۔یہی ہر قوم میں پھرنے والے تھے جنہوں نے ان میں خدا کے ہونے کا خیال پھیلایا۔پس یہ قبولیت عامہ کی دلیل ہے۔دہریت نے اس کے مقابلہ میں برے زور لگائے اور آج ہی نہیں بلکہ پہلے سے لگار ہی ہے مگر پھر بھی دہریت ہی مغلوب ہوتی رہی اور خدا کے ماننے والے ہمیشہ سے ہوتے رہے۔اور یہ بھی ثابتہے کہ دہریے بھی مرتے وقت یہی کہتے رہے ہیں کہ ہم خدا کی ہستی کا انکار نہیں کرتے ممکن ہے کہ خدا ہو۔چنانچہ ولایت میں ایک دہریے نے مرتے وقت بہت بڑی جائیداد اس بات کے لئے وقف کی کہ اس کےذریعہ خدا کی ہستی پر بحث جاری رہے۔منکرین خدا کے متعلق تو اس قسم کی باتیں ثابت ہیں۔مگر خدا کے ماننے والوں میں سے کبھی کسی نے مرتے وقت نہیں کہا کہ شاید خدا نہ ہو۔حضرت مسیح موعودؑ سنایا کرتےتھےکہ ہمارے (ہمارے سے مراد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ہیں) ماموں میر محمد اسمٰعیل صاحب کے ساتھ ایک دہریہ پڑھا کرتا تھا۔ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے بے اختیار رام رام نکل گیا۔میر صاحب نے جب اس سے پوچھا کہ تم تو خدا کے منکر ہو پھر تم نےرام رام کیوں کہا؟ کہنے لگا غلطی ہوگئی یونہی منہ سے نکل گیا۔مگر اصل بات یہ ہے کہ دہریے جہالت پر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماننے والے علم پر اس لئے مرتے وقت یا خوف کےوقت دہریہ یہ کہتا ہےکہممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں۔ورنہ اگر وہ علم پر ہوتا توا سکی بجائے یہ ہوتا کہ مرتے وقت دہریہ دوسروں کو کہتا کہ خدا کے وہم کو چھوڑ دو کوئی خدا نہیں مگر اس کے الٹ نظارے نظر آتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی ہستی کی یہ بہت زبردست دلیل ہے کہ ہر قوم میں یہ خیال پایا جاتاہے۔ہر قوم میں خدا کا خیال ہونے پر اعتراض اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بیشک خدا کے ماننے کا عام خیال پایا جاتا ہے مگر کوئی دو خیال آپس میں متفق دکھا دو۔ایک اگر کہتا ہے کہ ایک خدا ہے تو دوسرا کہتا ہے دو ہیں۔تیسرا کہتا ہےتین ہیں۔چوتھا کہتا ہے لاکھوں کروڑوں ہیں،پانچواں کہتا ہے ہر چیز خدا ہے،ایک وشنو اور شو کو خدا مانتے ہیں،دوسرے ایک نُور کا اورایک تاریکی کا خدا مانتے ہیں غرض جتنے منہ اتنی باتیں ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ خیال یقین کی بناء پر نہیں بلکہ وہم ہے۔