انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 16

انوار العلوم جلد 4 14 موازنه مذاہب 19 میں جب میں حج کے لئے ایک بوڑھے حاجیکی اپنے مذہب سے بے خبری کیا گیا تو این باد استان بود گیا تو ایک ہندوستانی بوڑھا ضعیف عبد الوہاب نام بھی ہمارا ہمسفر تھا۔ حج کے بعد ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی اور چونکہ مدینہ شریف کے حالات اطمینان بخش نہ تھے اور میری صحت بھی اچھی نہ تھی اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ امسال مدینہ شریف کی زیارت کو ملتوی کر دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اگر موقع دیا تو کرینگے ۔ وہ بوڑھا عبدالوہاب بہت معمر اور نہایت کمزور تھا اور اس کے پاس زاد راہ بھی نہ تھا میں نے اس کو کہا کہ تم بھی لوٹ چلو اس نے کہا کہ میں مدینہ ضرور جاؤں گا۔ کیونکہ میرے بیٹوں نے کہا تھا کہ وہاں ضرور جانا۔ میں نے اس کو بتایا کہ جس حال میں تم ہو اس میں تم پر مدینہ شریف جانا شریعت کی رو سے ضروری نہیں گروہ جانے کیلئے بہت مصر ہوا اور چلا گیا ۔ غالباً اسی سفر میں فوت ہو گیا ہو گا ۔ میں نے اس سے پوچھا۔ میاں عبدالوہاب تمہارا مذہب کیا ہے۔ کہنے لگا پھر بتاؤں گا۔ میں نے کہا یہ سوال تو ایسا نہیں جو تم پھر بتانے کے لئے رکھ چھوڑو ابھی بتا دو۔ اس نے کہا سوچ کر بتاؤں گا ہیں اور حیران ہوا۔ پھر پوچھا تو اس نے کہا کہ وطن سے لکھ کر بھیجدوں گا ۔ آخر میرے اصرار پر کہنے لگا کہ اچھا سوچ کر بتاتا ہوں ۔ میرا مذہب علیہ ہے میں حیران ہوا کہ یہ کونسا مذہب ہے۔ میں نے پوچھا یہ کونسا مذہب ہے۔ کہنے لگا سوچنے تو دو ۔ دو تین دفعہ کی اُلٹ پھیر کے بعد اس نے کہا۔ اعظم رحمۃ اللہ علیہ میرا مذہب ہے۔ ۔ جس سے اس کا مطلب تو معلوم ہو گیا کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے مگر اس کی تمام حیرانی سے یہ معلوم ہو گیا کہ اس نے یہ بھی کہیں بچپن میں ہی سنا ہو گا ۔ یہ تو اس کی حالت تھی۔ اسی طرح میں نے ایک اور تاجر کو اس وقت جبکہ حاجی لبیک لبیک مذہب سے بے خبری کے نعرے لگا رہے تھے دکھا کہ وہ گندے عشقیہ شعر پڑھ رہا تھا میں نے بعد میں اس سے حج کی غرض پوچھی تو اُس نے بتایا کہ ہمارے ملک میں لوگ حاجی کا زیادہ اعتبار کرتے ہیں ۔ اب میں یہاں سے جا کر اپنی دکان پر بورڈ لگواؤں گا کہ حاجی فلاں ۔ اس سے میری تجارت چمک جائیگی۔ یہ مسلمانوں ہی کی حالت نہیں بلکہ میں نے ہندوؤں ، عیسائیوں ، سکھوں کو اکثر مولا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جس مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں اس سے قطعاً نا واقف ہیں ۔ وہ دلائل سے کسی مذہب کے پابند نہیں۔ بلکہ آبائی طور پر پابند ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ فطرتاً اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر ماں باپ اس کو یہودی یا مجوسی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ میں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں مسلمانوں کو دیکھا ہے کہ وہ کلمہ شہادت صحیح نہیں پڑھ سکتے لیکن مذہب کے لئے لڑنے مرنے کے لئے بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبي فمات هل يصلى عليه ۔۔۔ الا --