انوارالعلوم (جلد 6) — Page 282
اب بتاؤ لا الٰہ الّا اللہ پر جانیں قربان کرنے والوں کی نسل یہ اور اس قسم کی اور باتیں کر رہی ہے یا نہیں؟ اور کیا اس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں میں پہلے شرک پایا جاتا تھا اورپھر خدا سے چل کر شرک کی تاریکیوں میں آگری تو کیوں نہ سمجھا جائے کہ پُرانی اقوام جن میں شرک پایا جاتا ہے اسی طرح خالص توحید کے نقطہ سے شروع ہوئی تھیں مگر پھر تنزل اور جہالت کے زمانہ میں اصل تعلیم کو بھلا بیٹھیں غرض عقلاً اور نقلاً یہ ہرگز محال نہیں کہ خدا تعالیٰ کا خیال قدیم سے چلا آیا ہو بلکہ عقل اور نقل دونوں اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ خیال قدیم سے اور الہام کےذریعہ سے دنیا میں چلا آیا ہے اور مشرکانہ خیالات بعد کے ہیں۔پس منکرین خدا کا یہ اعتراض کہ اگر خدا تعالیٰ واقعہ میں ہوتا تو ابتداء میں ایک خدا کا خیال ہوتا باطل ہے اور اس اعتراض کی بنیاد غلط واقعات پر رکھی گئی ہے۔اگر خدا ہے تو دکھاؤ ان ابتدائی،بحثوں کے بعد جب خدا تعالیٰ کے وجود کے متعلق فکر کرنے کی ضرورت ثابت ہوجاتی ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آتا تو منکرین خدا یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اچھا ہم ماننے کو تیار ہیں لیکن تم خدا ہمیں دکھا دو۔چناچہ پڑھےلکھے دہریہ تک بھی یہی کہتے ہیں کہ لائو خدا دکھا دو پھر ہم مان لیں گے۔اگر خدا ہے تو چاہئےتھا کہ آسمان سے آواز آتی کہ میرے بندو اکھٹے ہوجاؤمَیں تمہیں اپنا منہ دکھاتا ہوں اگر صبح و شام اسی طرح ہوتا تو سب لوگ خدا کو مان لیتے۔پس اگر خدا ہے تو دکھا دوہم مان لیں گے۔مجمل جواب اس کا مجمل جواب تو یہ ہے جو صوفیاء نے دیا ہے کہ وہ قریب ہے او رسب سے زیادہ قریب۔اور وہ دُور ہے اور سب سے زیادہ دُور۔اور بہت ہی قریب کی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی اوربہت دور کی بھی دکھائی نہیں دیتی۔پس خدا تعالیٰ جو بندہ سے نہایت دور ہے بندہ اسےدیکھ نہیں سکتا۔اور اسی طرح وہ بندہ سے اس قدر قریب ہے کہ حبل الورید سے بھی زیادہ قریب ہے اسلئے بھی نظر نہیں آتا۔کیا کبھی کسی نے اپنی حبل الورید دیکھی ہے یا اگر کوئی پانی میں منہ ڈال لے تو اپنے آپ کو دیکھ سکتاہے؟ پس ایک بات تو خدا کے متعلق ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ چونکہ اتنا قریب ہے کہ حبل الورید سے بھی زیادہ قریب ہے اسلئے انسان اسے دیکھ نہیں سکتا۔انہی دنوں ایک دوست نے سنایا کہ ایک شخص جرمنی وغیرہ سے ہوکر آیا ہمیں نماز پڑھتے دیکھ کر کہنے لگا اس قسم کی ورزش کا کیا فائدہ ؟ اس کی بجائے کوئی اور معقول ورزش کرلیا کرو جس کا کچھ فائدہ بھی ہو۔