انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 281

جائے اس کی عبادت زیادہ ہوتی ہے اور یہ بات تمام قدیم اقوام کے حالات سے معلوم ہوتی ہے کہ ان میں ایک خدا کا خیال تو موجود ہےلیکن پر ستش چھوٹے دیوتا ئوں کی زیادہ ہے اگر یہ خیال درست ہے کہ تدریج سے ایک خدا کا خیال پیدا ہوا ہے تو چاہیے تھا کہ تمام اقوام میں ایک خدا کی پرستش زیادہ ہوتی اور چھوٹے دیوتا اگر باقی بھی رہتے تو محض روایت کےطور پر حقیقتاًلوگوںکاان سے لگائو اور خدا کی پرستش شاذو نادر ہی کسی قبیلہ میں پائی جاتی ہے۔پس یہ صورت حالات اس تدریجی ترقی والے مقولہ کو باطل کردیتی ہے۔پھر ایک اور ذریعہ بھی اس سوال کو حل کرنے کا ہے اور وہ موجودہ زمانے کے تغیرات سے استنباط ہے۔اس عقیدہ کی بنیاد کہ خدا کے خیال نے تدریجی ترقی کی اصل میں صرف اس خیال پر مبنی ہے کہ تمام چیزوں میں تدریجی ترقی یا ارتقاء پایا جاتا ہے اور اس سے انسانی دماغ مستثنیٰ نہیں۔اب ہم اس اصل کو مدنظررکھتے ہوئے مسلمانوں کی حالت کو دیکھتے ہیں۔دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ اسلام خالص توحید پر مبنی تھااس کے ابتداء میں شرک کا ایک شمہ بھی اس کی تعلیم میں شامل نہ تھا مگر آہستہ آہستہ اب اسلام کی کیا حالت پہنچ گئی ہے۔کیا اب مسلمانوں میں قبر پرست ،درخت پرست ،جنّ پرست ،بُھوت پرست ،ستارہ پرست لوگ نہیں پائے جاتے؟ آخر وہ مسلمانوں کہلانے والے لوگ ہی ہیں جو کہتے ہیں کہ سیّد عبد القادر جیلانی ؒ کے پاس ایک عورت آئی اور آکر کہا میرے بچے کےلئے دُعا کرو کہ صحت یاب ہوجائے۔انہوں نے کہا دُعا کریں گے اور وہ چلی گئی لیکن وہ پھر آئی اور کہا میرا لڑکا تو مر گیا۔اس پر انہوں نے عزرائیل کو بُلایا۔وہ آئے تو کہا مَیں نے جو کہا تھا اس لڑکے کی جان نہیں نکلالنی۔پھر کیوں نکالی؟ انہوں نے کہا مجھے ایسا ہی حکم تھا مَیں کیا کرتا۔اس پر اسے پکرنے لگے اور وہ بھاگا۔عزرائیل آگے آگئے اور یہ پیچھے پیچھے۔گو یہ بعد میں اُڑے مگر بعدالقادر تھے اس کے قریب پہنچ ہی گئے۔وہ آسمان میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ انہوں نے پکڑ کر اس کی زنبیل چھین لی اور اس لڑکے کی روح ہی نہیں بلکہ اس دن کی ساری روحیں جو اس نے قبض کی تھیں چھوڑدیں۔وہ خدا کے پاس گیا اور جاکر رونے لگا کہ مجھ سے یہ جانیں نکالنے کا کام نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سیّد عبدالقادر نے مجھے ایک روح کے آزاد کرنے کو کہا تھا۔مَیں نے آزاد کی تو انہوںنے چھین کر سب روحیں ہی آزاد کردیں۔خدا نے یہ سنتے ہی کہا چپ چپ وہ کہیں یہ باتیں سُن نہ لے۔اگر وہ اگلی پچھلی ساری روحیں چھوڑ دے تو پھر ہم کیا کریں گے۔