انوارالعلوم (جلد 6) — Page 280
موجود ہے اور وہ یقین کرتی ہیں کہ ان کے پاس جو قانون ہے وہ خدا تعالیٰ نے الہام کیا ہے۔پس یہ شہادت جو ان اقوام کی ہے جو الہام یا عدم الہام کی حقیقت سے ناواقف ہے بتاتا ہے کہ یہ خیال کسی تدریجی ترقی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ الہام کےذریعہ سے قدیم زمانہ سے چلا آتا ہے۔مثال کے طور پر ہم ویدوں کو لیتے ہیں۔ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین اور شریعت کےعالم بالاسے نازل ہونے کا خیال بہت پُرانا ہے۔آسٹریلیا کے وحشی قبائل دنیا کی قدیم ترین حالت کے نمائندے ہیں ان سے جب پوچھا جائے کہ وہ کیوں بعض رسوم کی پابندی کرتے ہیں تو وہ یہ جواب ہیں کہ نرٹیڈ ئرنے ان کو ایسا ہی حکم دیا ہے یعنی خدا نے۔امریکہ کے پُرانے قبائل میں بھی یہ خیال موجود ہے کہ ان کے قوانین الہام کےذریعہ سے بنے ہیں۔یہ شہادتیں بتاتی ہیں کہ تدریجی ترقی سے یہ خیالات پیدا نہیں ہوئے بلکہ کسی ایک شخص کی معرفت جو اپنے آپ کو ملہم قرار دیتا تھا مختلف قبائل میں پھیلے لوگ ان اشخاص کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں،فریبی کہہ سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خیالات تدریجی ترقی کا نتیجہ تھے ورنہ یہ روایات قدیم وحشی قبائل میں نہ پائی جاتیں۔دوسرا جواب یہ ہےکہ آثار قدیمہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بہت سی قومیں جن میں اب مشرکانہ خیالات ہیں ابتداءمیں ان میں ایک خدا کی پرستش تھی۔چنانچہ میگز ایک محقق ہے اس نےچین کے متعلق تحقیقات کی ہے کہ گو وہاں ہر چیز کا الگ خدا مانتے ہیں آگ کا خدا ،چولہے کا خدا ،توےکا خدا غرضیکہ ہر چیز کا خدا لگ الگ ہے گویا ہندوستان سے بھی بڑھ کر شرک ہے کہ جہاں صرف ۳۳ کروڑ دیوتا سمجھا جاتا ہے لیکن پُرانے زمانہ میں وہاں ایک ہی خدا کی پرستش کی جاتی تھی۔اسی طرح بابل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔بابل وہ شہر ہے جسے ہمارے ملک کے بچے بھی جانتے ہیں اور ہاروت ماروت کے قصّے کی وجہ سے خوب مشہور ہے اس شہر کی تاریخ نہایت قدیم ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں پُرانے زمانہ میں ایک خدا کا خیال موجود تھا۔تیسرا جواب تیسرا جواب یہ ہے کہ قدیم اقوام کے متعلق یہ کہنا کہ ممکن ہے ان میں ایک خدا کا خیال بعد میں پیدا ہوگیا ہو عقلاً غلط ہے کیونکہ یہ ایک مانا ہوا قاعدہ ہے کہ جو خیال کسی قوم میں بعد میں پیدا ہوا اس کی عظمت زیادہ ہوتی ہے اور جو دیوتا بعد میں مانا