انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 279

ان کا ارنٹا (ARUNTA)نامی ایک قبیلہ ہے۔وہ ایک ایسے خدا کا قائل ہے جو آسمان پر رہتا ہےاسے وہ الٹجیرا (ALTJIRA)کہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ چونکہ حلیم ہے اس لئے سز ا نہیں دیتا اور اس لئے اس کی عبادت کی ضرورت نہیں۔افریقہ کا ایک وحشی قبیلہ جسے زولو (ZULU) کہتے ہیں ان میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ ایک غیر مرئی خدا نے جو سب دُنیا کا باپ ہے۔اس کا نام انکو لنکولو (UNKULUNKIVLU) بتاتے ہیں۔ہندوؤں میں خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتوں کے متعلق خیال پایا جاتا ہے۔چنانچہ درونا کے متعلق وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عالم الغیب اور غیر محدودطاقتوں والا ہے۔چنانچہ اس کے متعلق ہندوئوں کا پُرانا خیال ہے کہ ’’اگر کوئی آدمی کھڑا ہو یا چلے یا پوشیدہ ہوجائے۔اگر وہ لیٹ جائے یا کھڑا ہوجائے یا جو دو آدمی اکھٹے بیٹھ کر ایک دوسرےسے سرگوشیاں کریں بادشاہ درونا اسے جانتا ہے وہ وہاں بطور ثالث موجود ہے۔یہ زمین بھی دَرُونَا کی ہے اور آسمان اپنےوسیع فضا سمیت بھی اسی کا ہے۔وہ شخص آسمان سے بھی بھاگ کر نکل جائے وہ بادشاہ دَرُوْنَا کی حکومت سے باہر نہیں جاسکتا‘‘۔اسی طرح آسٹریا کےقدیم وحشی باشندے نورینڈ ئیر (NURRENDIRE) کو شریعت دینے والا خدا سمجھتے ہیں۔دومبو ایک پرانا وحشی قبیلہ نوریلی (NURELLI) کے نام سے ایک زبردست خدا کے پرستش کرتا ہے۔افریقہ کا مشہور مغربی بنتو قبیلہ نزامبی (NZAMBI) تمام دُنیا کا پیدا کرنے والا اور بنی نوع انسان کا باپ قرار دیاجاتا ہے۔پس اس قدر قدیمی اور وحشی قبائل کے اندر ایک زبردست غیر مرئی خدا کا خیال پایا جانا بتاتا ہے کہ آہستہ آہستہ خدا کا خیال نہیں پیدا ہوا بلکہ الہامی طور پر آیا ہے۔اہلِ یورپ کا اعتراض بعض لوگ اوپر کے بیان پر اعتراض کرسکتے ہیں کہ یہ تو مانا کہ ایک غیر مرئی قادر مطلق خدا کا خیال پُرانی اور قدیمی اقوام میں پایا جاتا ہے مگر یہ کس طرح معلوم ہو کہ یہ خیال بھی ان قوموں میں پُرانا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو خود وحشی قبائل میں الیام کا خیال موجود ہے پرانے سے پُرانے قبائل کو لیا جائے وحشی سے وحشی قبائل کی روایات پر غور کیا جائے تو ان میں الہام کا خیال