انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 278

عیسائیت میں بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ پہلے تاریکی تھی پھر دُنیا بنی اور اسلام میں بھی یہی ہے۔یہ ہزاروں سال بعد کی تحقیقاتیں بھی یہی ثابت کرتی ہیں اور یہی باتیں ہیں جو سائنس کہتی ہے کہ پہلے بہت باریک ذرات تھے جو بغیر کسی سبب اور ذریعہ کے اکٹھے ہوئے اور بادل بنے۔ان میں ایک جگہ ٹھوس ہوگئی اس لئے کہ وہاں زیادہ مادہ جمع ہوگیا۔اس جگہ نے دوسرے زروں کو کھینچنا شروع کیا اور کرہ بڑھنے لگا اور اس میں گولائی آنے لگی۔اس طرح بہت بڑا کرہ بنا۔پھر اسکے ٹکڑے ہوگئے۔کوئی سورج بن گیا۔کوئی چاند کوئی ستارے۔افریقہ کے قدیمی باشندوں کے خیال پھر افریقہ کی طرف آئیے۔وہاں کے پُرانے اور قدیمی باشندوں کے دماغ اتنے ادنیٰ درجہ کے ہیں کہ اگر انہیں پڑھایا جائے تو بڑھاپے میں سب کچھ بھول جاتے کیونکہ ان کے دماغ اسقدرادنیٰ ہوتے ہیں کہ سیکھی ہوئی باتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ان میں بھی ایک وراء الوریٰ ہستی ہے جو سب کی خالق ہے اور اسے وہ نینگمو (NYONGMO) کہتے ہیں۔بابلیوں میں خدا کا عقیدہ پھر بابلیوں میں بھی یہی عقیدہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ بابل کے ایک نہایت ہی پُرانے بادشاہ کی ایک دُعا نکلی ہے جو یہ ہے:- کہ اے دائمی بادشاہ تمام مخلوق کے مالک تُو میرا خالق ہے۔اے بادشاہ تیرے رحم کے مطابق۔اے آقا جو تو سب پر رحم کرنے والا ہے تیری وسیع بادشاہت رحم کرنےوالی ہو۔اپنی الوہیت کی عبادت کی محبّت میرے دل میں گاڑ دے۔اورجو کچھ تجھے اچھا معلوم دیتا ہے وہ مجھے دے۔کیونکہ تو ہی ہے جس نےمیری زندگی کو اس رنگ میں ڈھالا ہے۔کتنا اعلیٰ اور نبیوں والا خیال ہے جو اس دُعا میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے میں کوئی چیز مانگوں اور وہ میرے لئے مضر ہو۔اس لئے اے خدا جو کچھ تجھےمیرے لئے اچھا معلوم ہوتا ہے وہ دے یہ اس قوم کی دُعا ہےجسے بُت پرست کہاجاتا ہے۔دیگر اقوام کے خیال اسی طرح کینڈا والے قدیمی باشندے ایک خدا کو مانتے ہیں۔پھر آسٹریلیا کا علاقہ جو چند صدیوں سے ہی دریافت ہوا ہے اور جہاں کے لوگ دُنیا سے بالکل علیحدہ تھے اور اس قدر وحشی اور خونخوار تھے کہ ان کا قریباً خاتمہ کردیا گیا۔