انوارالعلوم (جلد 6) — Page 272
انوار العلوم جلد 4 ۲۷۲ هستی باری تعالی قرار دیا جاتا تھا ۔ دوسرا فلسفیوں کا جو بہت لطیف اور وراء الوری سمجھا جاتا تھا۔ تیسرا حکومت کا خدا جس کا مطلب صرف یہ تھا کہ امن قائم رکھنے کے لئے ایک بالا ہستی کو منوانا عوام الناس کو جرموں سے بچانے کے لئے ضروری ہے۔ اب یورپ بھی اس قسم کے خدا کا قائل ہے ۔ حالانکہ یہ دہریت ہے اور خدا تعالیٰ کی پاک ذات سے تمسخر ۔ اس دلیل کی کمزوری خدا کے ماننے کے لئے یہ دلیل کہ اس کے ماننے سے ان قام ہوتا ہے یورپ کی دلیل ہے مگر یہ کوئی دلیل نہیں کیونکہ اگر في الواقع خدا نہیں ہے تو پھر کیوں دھوکا دے کر لوگوں سے خدا منوایا جائے ۔ دھوکا دے کر ہے تو خدا جا لوگوں کو گنا ہوں سے باز رکھنا خود ایک گناہ ہے ۔ اور پھر یہ بھی تو سوال ہے کہ خدا تعالیٰ کا کو وجود ہی کوئی نہیں تو پھر گناہ کیا شے ہے ؟ خدا تعالیٰ کے نہ ہونے کی صورت میں تو گناہ کی تعریف ہی بدلنی پڑے گی۔ پس خدا تعالیٰ کے منوانے کی یہ غرض اپنی ذات میں گناہ ہے اور یہ اپنی لوگوں کو ذہنی غلامی میں پھنسائے رکھنا ہے اور دہریت پیدا کرنا ہے۔ کیونکہ جب ایک چیز کو اس کے اصل مقصود سے پھیر دیا جائے تو اس کی حقیقت پر غور کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں رہتی ۔ اصل جواب اس سوال کا کہ خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لایا جائے یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ موجود ہے اس لئے اس پر ایمان لانا چاہیے اور دوسری صداقتوں کو جو ہم مانتے ہیں تو یہ سوچ کر تو نہیں مانتے کہ ان کے ماننے میں کیا فائدہ ہے بلکہ اس لئے مانتے ہیں کہ وہ سچائیاں ہیں اور سچائیوں کو معلوم ہونے کے بعد نہ ماننا جہالت اور حماقت ہے اور جبکہ نہایت چھوٹی چھوٹی صداقتوں کے دریافت کے لئے بغیر اس کے کہ اس دریافت سے کسی فائدہ کی پہلے سے کوئی امید ہو لوگ کوشش کرتے ہیں تو کیوں اسقدر اہم مسئلہ کی دریافت کی طرف توجہ نہ کی جائے جو پیدائش عالم کی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے ۔ جب لوگوں نے زمین کے گھومنے یا اس کے گول ہونے یا ستاروں کے فاصلوں پر غور کرنا شروع کیا تھا تو ان امور کی دریافت میں سوائے زیادتی علم کے اور کیا فائدہ سوچاتھا۔ پس اگر جزئیات کی دریافت کے متعلق بغیر کسی نفع کی اُمید کے کوشش کی جاتی رہی ہے اور کی جاتی ہے تو ذات باری کے مسئلہ کے متعلق کیوں غور نہ کیا جائے ؟ در حقیقت جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق غور ہی کیوں کریں وہ ایک رنگ میں خدا تعالیٰ کی ذات کا انکار کرتے ہیں ۔ ان کی غرض اس علم سے جو فوائد مترتب ہوتے ہیں ان کا معلوم کرنا نہیں ہوتا ۔