انوارالعلوم (جلد 6) — Page 270
انوار العلوم جلد 4 ۲۷۰ استی باری تعالی جو مذہب پر پہلے سے ہی معترض تھے ان کے مددگار ہو گئے اور علوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ مذہب کی گرفت بھی کم ہوتی چلی گئی۔ مشرق میں جب ان علوم کا رواج ہوا تو چونکہ کتابیں لکھنے والے مسیحیت سے تنگ آکر دوسری حد کی طرف نکل گئے تھے جس طرح پادری ہر ایک علمی تحقیق کو کلام الہی کے خلاف ثابت کرتے تھے۔ انہوں نے ہر ایک علمی تحقیق سے یہ نتیجہ نکالنا شروع کیا کہ خدا ہی کوئی نہیں اور ان کی کتب کے مطالعہ کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دل جو پہلے ہی زنگ آلود تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بالکل دور جا پڑے اور طبائع دہریت کی طرف مائل ہو گئیں ۔ فلسفی خیالات کے متعلق ایک اور مصیبت ہے اس میں صرف دماغ کی ترو تا ند گی کا سامان ہے کرنا کرانا کچھ نہیں پڑتا اس لئے بہت سے لوگ اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اس کے خلاف مذہب پر غور و تدبر کرنے کا نتیجہ علی اصلاح ہے جو لوگوں پر گراں گزرتی ہے ۔ مثلاً جو شخص اسلام پر غور کرے گا اور اس کی خوبی کا قائل ہو گا اس کو ساتھ ساتھ کچھ کرنا بھی ہو گا اور مذہب میں اتھ کچھ کرنا ہی ہوگا ترقی کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی ترقی ہوتی چلی جائے گی اگر پہلے فرض شروع کرے گا تو اور غور کرنے پرستیں بھی پڑھنے لگ جائے گا اور پھر جب اور غور کرے گا تواسے معلوم ہوگا نوافل بھی بہت مفید ہیں یہ بھی پڑھنے لگ جائے گا اور جوں جوں غور کرے گا نوافل میں ترقی کرتا جائے گا غرض مذہب میں انسان جس قدر غور وفکر سے کام لے گا اسی قدر زیادہ پابندیاں اپنے اوپر ماند کرتا جائے گا۔ مگر فلسفہ میں یہ بات نہیں ہوتی صرف دماغ تازہ کیا جاتا ہے اور عملی طور پر کیا کرا یا کچھ نہیں جاتا اس لئے لوگ ادھر زیادہ متوجہ ہو جاتے ہیں۔ غرض دہریت اور خدا کے انکار کا اس زمانہ میں بڑا زور ہے ۔ ایک وجہ اس انکارہ کی یہ بھی ہے کہ عام طور پر لوگ خود تحقیق نہیں کرتے بلکہ ان کے مذہب کی بنیاد صرف ماں باپ کے ایمان پر ہوتی ہے اور جن لوگوں کی اپنی تحقیق کچھ ہوہی نہیں وہ اعتراض کا دفعیہ نہیں کر سکتے بلکہ جلد ان سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ ایک طرف سنی سنائی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف دلیل ۔ اگر وہ لوگ دل سے خدا تعالیٰ کو مانتے ہوئے تو اس قدر دہریت نہ پھیلتی ۔ مثلاً یہ میز پڑی ہے یا یہ سائبان ہے ۔ اگر کوئی فلسفی کہے کہ یہ میز نہیں یا یہ سائبان نہیں یا اس وقت سورج چڑھا ہوا نہیں ۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ آپ لوگوں میں سے کوئی اس کی بات مان لے۔ اسی طرح اگر لوگوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہوتا اسے حقیقی طور پر مانتے تو کس طرح ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والوں کی بات مان لیتے۔ بات یہیں