انوارالعلوم (جلد 6) — Page 269
متأثر ہوکر مذہب سے دُور جا پڑے ہیں اور دوسرے لوگوں نے ان کے اثر کو قبول کیا ہے۔یورپ کے فلسفہ کا اور فلسفیوں کے خدا تعالیٰ سےاس قدر دور ہوجانے کا سبب یہ ہے کہ جب یورپ میں علمی ترقی ہونے لگی اور طبعی اکتشافات کا سلسلہ شروع ہوا تو پادریوں کو یہ بیوقوفی سوجھی کہ انہوں نے اس ترقی کو مذہب کے خلاف سمجھا اور اس کی مخالفت شروع کردی۔جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ مسیحیت کی بنیاد ایسے اُصول پر ہے جن کو عقل ردّکرتی ہے۔اگر لوگوں کی توجہ عقل کی طرف ہوگئی تو اس کو کون مانے گا۔پس انہوں نے تصرف کو قائم رکھنے کے لئے جو ان کو عوام الناس پر حاصل تھا علوم ،ہی کی مخالفت شروع کردی اور جو بات بھی علوم طبعیہ کے متعلق نئی دریافت ہوئی اسے کفر قرار دے دیا اور کہدیا کہ یہ مذہب کے خلاف ہے اور اس کی طرف توجہ کرنا گناہ ہے۔چنانچہ ایک شخص نے جب دریافت کیا کہ زمین سُورج کے گرد گھومتی ہے تو اس کے متعلق پادریوں نے فتویٰ دیدیا کہ یہ مذہب سے نکل گیا ہے۔آپ حیران ہوں گے کہ زمین کے سورج کے گرد گھومنے کا دعویٰ کرکے وہ شخص کس طرح مسیحیت سے نکل گیا مگر اس کا جواب آسان ہے۔پادریوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ خدا تعالیٰ کا کلام انسان پر نازل ہوا ہےاور انسان زمین پر بستا ہے اس لئے زمین سب سے اعلیٰ ہوئی۔لیکن اگر زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو زمین سورج کے مقابلہ میں ادنیٰ ہوگی تو اس کی ذلّت میں شبہ نہ رہا اور اس پر بسنے والے بھی ذلیل ہوگئے اس بناء پر اس پر کُفر کا فتویٰ دے دیا گیا اور اسے اتنا تنگ کیا گیا کہ آخر اس نے ایک کتاب لکھی جس میں لکھاکہ میں نے سُورج کے گرد زمین کے گھومنے کے متعلق جو کچھ لکھا تھا اگر چہ عقل کے ر و سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے مگر انسانی عقل ہے کیا چیز کہ اس پر بھروسہ کیا جاوے۔اصل بات یہ ہے کہ شیطان چونکہ انسان اور خدا کا دشمن ہے اور خدا کے نُور کو دُنیا میں پھیلنے سے روکتا ہے اس لئے اس نے میرے دل میں یہ خیال ڈال دیا اور مجھے اس وقت ایسا معلوم ہونے لگا کہ زمین گھومتی ہے یہ عذر کرکے اس نے عقلمندوں کی نگاہ میں تو اپنے دعویٰ کو پختہ کردیا لیکن پادریوں نے اپنی بیوقوفی سے سمجھا کہ اب اس کو عقل آگئی ہے اور کی تو بہ قبول کی گئی۔اس قسم کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایجادیں کرنے والے اور نئی نئی باتیں دریافت کرنے والے خدا کے ہی خلاف ہوگئے۔انہوں نے سمجھا کہ اگر ثابت شدہ باتوں اور آنکھوں دیکھی باتوں پر عقیدہ رکھنے سے خدا کے کلام کا انکار ہوتا ہے تو خدا کا کوئی وجود ہی نہیں۔کیونکہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کا کلام کچھ اور کہے اور اس کا فعل کچھ اور۔اس وجہ سے وہ مذہب کے خلاف ہوگئے اور فلسفی