انوارالعلوم (جلد 6) — Page 260
’’ آخر حضرت مسیح موعودؑکے یہاں وفات پانے سے کچھ خصوصیت تو اسے (لاہور کو) بھی ملنی چاہئے۔‘‘ اس فقرہ میں جس جاہ طلبی ،جس حصول مرتبت، جس لجاجت، جس اُمید ،جس خواہش کو مختصر الفاظ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس کا لطفوہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جو سخن فہمی سے کوئی حصہ رکھتے ہیں۔رائی کا پہاڑ بنانا مولوی محمد علی صاحب کا لاہور جانا تھا کہ مخالفت کا دریا اوربھی تیزی سے امڈنے لگا وہ بچوں کے کنکرپھینکنے کا ارادہ ظاہر کرنے کا واقعہ تھوڑے دنوں میں تبدیل ہوکر یوں بن گیا کہ بعض لڑکوں نے مولوی صاحب پر کنکر پھینکے مگر شکر ہے لگے نہیں۔پھر ترقی کرکے اس نے یہ صورت اختیار کی بعض لڑکوں نے آپ پر پتھر پھینکے مگر شکر ہے کہ آپ کی آنکھ بچ گئی اور پھر اس سے بھی ترقی کرکے اس نے یہ ہیئت اختیار کی کہ قادیان کے لوگوں نے کنکر پھینکے اور اس کے بعد یہ کہ قادیان کے لوگوں سے آپ کی جان محفوظ نہ تھی۔چنانچہ ابتداء اس طرح شروع بھی ہوگئی تھی کہ قادیان کے لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے اور یہ آخری روایت مولوی محمد علی صاحب نے امرتسر میں متعدد آدمیوں کے سامنے بیان کی۔مولوی محمد علی صاحب کے چلے جانے کے بعد قادیان مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور خیال کیا گیا کہ قادیان کا سُورج غروب ہوگیا مسیح موعودؑکا بنایا ہوا۔مرکز ٹوٹ گیا۔مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور سمجھ لیا گیا کہ اب اسلام کا یہاں نام باقی نہ رہیگا۔مرزا یعقوب بیگ صاحب نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ ہم جاتے ہیں ابھی دس سال نہ گزریں گے کہ یہ جگہ عیسائیوں کے قبضہ میں ہوگی۔مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور گویا قادیان کی روح فاعلی نکل گئی عام طور پر کہا جانے لگا کہ اب وہاں کوئی آدمی کام کے قابل نہیں۔زیادہ دن نہ گزریں گے کہ قادیان کا کام بند ہوجائے گا۔مولوی محمدعلی صاحب قادیان سے چلے گئے اور گویا قادیان کی برکت سب جاتی رہی علی الاعلان اس امر کا اظہار ہونے لگا چندہ بند ہوجاوے گا اور یہ لوگ بھوکے مرنے لگیں گے تو خود ہوش آجاوے گا۔