انوارالعلوم (جلد 6) — Page 257
انوار العلوم جلد 4 ۲۵۷ آئینه صداقت نہیں مانیں گے ۔ اگر خواجہ صاحب کی طرف توجہ کی تو دوسرے لوگ نہیں مانیں گے ہاں ایک صورت ہے جس سے فساد بھی نہیں ہوتا اور خلافت بھی قائم ہوسکتی ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ وہ کونسی ؟ اس وقت خان صاحب نے کہا کہ اگر میاں صاحب اپنا حوصلہ وسیع کریں تو بات بن جاتی ہے اور وہ مولوی محمد علی صاحب ہیں ۔ اگر ان کی سبعیت کر لی جائے تو لاہوری بھی مان جاویں گے اور دوسرے بھی مان جاویں گے۔ یہ الپس میں گفتگو تھی ۔ مگر حضرت کی زندگی میں ۔ بہت دن پہلے ۔ اپنی بخش تعلیم خود ۲۹ اپریل ۱۹۱۴ء ) اس شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس قسم کا الزام یہ لوگ ہم پر لگاتے ہیں ۔ وہ خود ر ان پر لگتا ہے اور جو الزام ہم پر لگایا جاتا ہے۔ اس کی نسبت میں ثابت کر چکا ہوں کہ وہ پر کتاب اور جو پر لگایا جاتا ہے۔ میں کر چکاہو ایک دو آدمیوں کی غلطی سے ہوا اور خود ہماری طرف سے ہی پیشتر اس کے کہ کوئی نتیجہ نکلتا اس کا تدارک کر دیا گیا۔ کتنی میں ہے جماعت بیعت میں داخل ہے اسی طرح اور کئی باتیں ہمارے بد نام کرنے کے اہے لئے مشہور کی گئیں ۔ مگرہ لئے مشہور کی گئیں ۔ مگر خدا تعالیٰ نے سلسلہ کو مضبوط کیا ۔ اور باوجود اس کے کہ خود انہی کی تحریروں کے مطابق ننانوے فیصدی جماعت ابتداء میں ان کے ساتھ تھی مگر تھوڑے ہی عرصہ میں خدا تعالیٰ نے سب کو کھینچ کر میرے پاس لاڈالا اور اب قریباً ننانوے فی صدی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ساتھ ہے ۔ لاہور میں جماعت سے مشورہ کی تجویز ان لوگوں نے شور مچایا کہ جو قادیان میں اس وقت جمع تھے ان کی رائے نہ تھی ان کا مشورہ جماعت کا مشورہ نہ تھا اس لئے اخباروں اور خطوط کے ذریعہ سے تمام جماعت احمدیہ کو دعوت دی گئی کہ گئی کہ وہ ۲۲ مارچ کو لاہور جمع ہوں تاکہ پورے طور پر مشورہ کیا جاوے۔ اس تحریک عام پر پیغام صلح کے اپنے بیان کے مطابق لاہور کی جماعت کو ملا کر کل ایک سو دس آدمی جمع ہوئے صلح کے کے لاہور کی جماعت کو عطا سو جمع ہوئے جن میں سے قریباً بیالیس آدمی لاہور سے باہر کے تھے جن میں سے چار پانچ آدمیوں کے سوا باقی کسی کے جن میں سے چار پانچ کے سواتی کی جماعت کے نمائندہ نہیں کہلا سکتے ۔ بلکہ باقی لوگ اپنے اپنے طور پر ذاتی دلچسپی سے اس جلسہ میں شامل ہوئے تھے ۔ مولوی محمد علی صاحب کے لاہور کے ہم خیالوں نے ان بیالیس آدمیوں کے مشورہ علی کے لاہور کے ہم سے جن میں صرف چار پانچ آدمی کسی جماعت کی نیابت کا حق رکھتے تھے۔ جو کچھ فیصلہ کیا اسے کل