انوارالعلوم (جلد 6) — Page 256
دس آدمیوں سے زیادہ سے یہ ذکر نہیں کیا گیا۔فوراً ہی اس کارروائی کو چھوڑ دیا گیا۔خود بعض انصار اللہ کی انجمن کے ممبروں نے اور میرے خاندان کے ایک آدمی نے ان کو سختی سے اس بات سے روکا اور میرے قطعی فیصلہ کے معلوم ہونے پر وہ اس امر سے بالکل باز آگئے۔پس یہ واقعہ ہرگز کسی سازش پر دلالت نہیں کرتا۔مولوی محمد علی صاحب کے ساتھیوں کی سازش ہاں اس کے مقابلہ میں ایک اور واقعہ ہے جس کے راوی ماسٹر عبدالحق صاحب مرحوم مشہور مضمون نگار ہیں۔انہوں نے شروع میں میری بیعت نہ کی تھی۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی صدر الدین صاحب ووکنگ مشنری اور ہیڈ ماسٹر مسلم ہائی سکول لاہور اور ٹرسٹی احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد اس خیال سے کہ لوگ خلافت کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتے یہ تجویز کی تھی کہ کوئی خلیفہ بنایا جاوے مولوی محمد علی صاحب اپنے ٹریکٹ کی اشاعت کی وجہ سے اپنے ہاتھ کاٹ چکے تھے۔اس لئے سیّد حامد علی شاہ صاحب کی نسبت تجویز کی گئی کہ ان کی خلافت کے لئے چالیس آدمی تیار کئے جاویں اور وہ بیان کرتے ہیں کہ رات کے وقت مولوی صدرالدین صاحب ہاتھ میں لالٹین لے کر دوہزار احمدیوں کے ڈیروں پر ماسٹر عبدالحق صاحب اورایک اور صاحب سمیت چکر لگاتے رہے کہ چالیس آدمی ہی اس خیال سے مل جاویں۔مگر اتنے آدمی بھی (اس دو ہزار کے مجمع میں سے جس میں بقول ان کے اکثر مجھے سے نفرت کرتے تھے) ایسے نہ ملے جو ان کا ساتھ دیتے۔ماسٹر صاحب تو فوت ہوگئے ہیں مولوی صدرالدین صاحب ہی قسم کھا کر بیان کردیں کہ کیا یہ واقعہ درست نہیں اور کیا اس واقعہ کی موجودگی میں ان کا مولوی محمد اسمٰعیل صاحب کے واقعہ کو پیش کرنا جسے خود اپنے ہی احباب کے سمجھانے پر چھوڑ دیا گیا تھا درست ہوسکتا تھا۔علاوہ اس واقعہ کے ان لوگوں کے متعلق ایک اور شہادت بھی ملتی ہے اور وہ ڈاکٹر الٰہی بخش صاحب کی ہے۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:- ’’مجھے یاد ہے کہ ابھی حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الاول ایسے سخت بیمار نہ تھےمگر حالت ان کی دن بد ن نازک ہوتی چلی جاتی تھی۔ایک روز جس کی تاریخ مجھے ٹھیک یاد نہیں ہے۔اکبر شاہ خان صاحب سے میں نے پہلے ذکر کیا کہ حضرت صاحب کی حالت دن بدن نازک ہوتی جاتی ہے اللہ تعالیٰ خیر کرے۔اسی اثناء میں خلافت کا ذکر بھی آگیا اس پر خان صاحب نے کہا کہ فساد کا تو ڈر ہے کیونکہ میاں صاحب کی خلافت لاہوری صاحبان