انوارالعلوم (جلد 6) — Page 254
انوار العلوم جلد 4 ۲۵۴ آئینہ صداقت اس وقت ان کے ساتھ ہیں۔ ان کا وجود ہی اس بات کی کافی شہادت ہے کہ انجمن انصار اللہ پر خلافت کے متعلق سازش کرنے کا الزام ایک جھوٹ ہے جو محض نفسانیت کے شر سے فریب دہی کے لئے بنایا گیا ہے ۔ نصار اللہ کےمتعلق یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح کی وفات کے قریب ایک کارڈ باہر بھیجا تھا کہ حضرت کی طبیعت بہت کمزور ہے اور زندگی کا عرصہ کم معلوم ہوتا ہے جو لوگ زیارت کے لئے آنا چاہیں آجائیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی سازش تھی ۔ بیشک انجمن انصار اللہ کے سیکرٹری نے ایسا کارڈ لکھا کیونکہ انجمن انصار اللہ کے فرائض میں سے انصار کے خدمت احباب بھی ایک فرض تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کارڈ انہوں نے کس کو لکھا۔ اگر صرف انصار اللہ کو لکھا جاتا تب بھی کوئی قابلِ اعتراض بات نہ تھی ۔ مگر دشمن اپنے عناد سے کہہ سکتا تھا کہ اس کے لکھنے کی اصل غرض یہ تھی کہ اپنے ہم خیال لوگوں کو بلوا لیا جاوے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ کارڈ تمام انجمن ہائے احمدیہ کے سیکرٹریوں کو لکھا گیا اور صرف انصار اللہ کے نام نہیں گیا۔ پس اس کارڈ سے اگر خلافت کے متعلق ہی نتیجہ نکالا جاوے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انجمن انصار اللہ چاہتی تھی کہ جہاں تک ہو سکے اس موقع پر تمام جماعت کے نمائندہ موجود ہوں تاکہ کافی مشورہ ہو سکے۔ یہ اس کا فعل قابل تحسین ہے یا قابل ملامت ؟ اور کیا یہ کارڈ ہی انجمن انصار اللہ کی بریت نہیں کرتا ؟ اگر انجمن انصار اللہ کی کوئی سازش ہوتی تو ان کی تمام تر کوشش لوگوں کو یہاں آنے سے روکنے میں صرف ہوتی۔ اور وہ ایسی اطلاع صرف انجمن انصار اللہ کے ممبروں کو دیتے تاکہ من مانی کار روائی کر سکیں۔ مگر انجمن انصار اللہ نے وقت پر سب جماعتہائے احمدیہ کو نہ کہ اپنے خاص معتبروں کو طلاع کردی اور اس کا نتیجہ تھا کہ قریباً دو ہزار آدمی اس موقع پر جمع ہو گیا۔ اور پھر کیا یہ درست نہیں که حضرت خلیفتہ المسیح کی بیماری کے ایام میں دو دفعہ اسی قسم کی اطلاعیں مولوی صدر الدین صاحب کی طرف سے شائع کی گئی تھیں کہ اگر کارڈ سازش تھا تو کیا انکی تحریر سازش نہ تھی ۔ ہمارے بد نام کرنے کے لئے ایک اور ترکیب یہ کی گئی کہ مشہور ایک اور غلط الزام کیا گیا کہ جو لوگ مجمع میںجمع ہوتے تھے وہ پہلے سے لکھا۔ سے سکھائے ہوئے تھے کہ وقت پر میرا نام خلافت کے لئے لے دیں۔ اور اس کا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کہ مولوی محمد اسمعیل یہ صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح کی حیات میں بعض لوگوں سے کہا کہ چالیس آدمی ایسے تیار ہو جاویں جو اس وقت میرے ہاتھ پر بیعت کر لیں ۔ مجھے اس موقع پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض پیش آمدہ