انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 252

انوار العلوم جلد 4 ۲۵۲ آمیز صداقت ( نصف کے قریب لوگوں نے بیعت نہ کی۔ (۲۲) د مارچ ۱۹ شه ) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح کے صحبت یافتہ لوگوں میں سے کسی نے بیعت نہ کی۔ اور جو لوگ قادیان میں موجود تھے ان میں سے نصف نے انکار کر دیا۔ مگر حق یہ ہے کہ پچاس سے زائد آدمی نہ تھے جنہوں نے بیعت سے اجتناب کیا اور اس دو یا بقول پیغام اڑھائی ہزار آدمیوں میں سے نصف سے زیادہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کی صحبت حاصل کی ہوئی تھی قادیان کے مہاجرین میں سے جن کی تعداد تین چار سو سے کم نہ تھی کل چار پانچ آدمی بیعت سے باہر رہے اور یہ اور یہ لوگ پیغام کی نظر میں گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح کے صحبت یافتہ ہی نہ تھے۔ مرزا العقوب بیگ صاحب سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے تو اس سے بھی بڑھ کر کمال کیا اور اخبار عام لاہور میں لکھ دیا کہ کثیر التعداد حاضرین کو اس بات کا پتہ بھی نہیں کہ کون خلیفہ مقرر ہوئے ہیں جب اس صریح جھوٹ پر نوٹس لیا گیا ۔ تو ڈاکٹر صاحب اول الذکر مضمون کے راقم نے ۲ اپریل کے پیغام میں شائع کیا کہ میری مراد اس فقرہ سے یہ تھی کہ سمجھدار لوگوں میں سے زیادہ حصہ نے بیعت نہ کی۔ اور یہ سمجھداری کا فقرہ ایسا گول مولی ہے کہ اس کی تشریح در بطن: کہ اس کی در شاعر ہی رہ سکتی ہے دوسرے لوگ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہر ایک شخص کہ سکتا ہے کہ جو لوگ میرے ہم خیال ہیں وہ سمجھدار ہیں اور دوسرے لوگ نا سمجھے لیکن اگر سمجھ کا کوئی معیار ہے تو ہر ایک معیار کے مطابق ہم تبا سکتے ہیں کہ نہ صرف زیادہ لوگوں نے بلکہ بہت زیادہ لوگوں نے بیعت اختیار کی۔ راقم مضمون نے اور اس کے مضمون کو شائع کر کے پیغام نے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے اس جھوٹ کی خود ہی تردید کی کیونکہ اس نے لکھا کہ مجمع حاضر الوقت یا انصار اللہ تھے یا جٹ جو بیعت کے لئے تڑپ رہے تھے اور جنہوں نے فوراً بیعت کر لی ۔ وہ لوگ انصار اللہ تھے یا کون اس کا سوال نہیں جو لوگ بھی تھے خود پیغام کی روایت کے مطابق نہ صرف انہوں نے بیعت کی بلکہ وہ بیعت کے لئے تڑپ رہتے تھے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے صریح اور بالکل صریح جھوٹ لکھا تھا کہ کثیر التعداد حاضرین کو اس امر کا علم بھی نہ تھا کہ خلیفہ کون ہوا ہے ۔ پیغام کے مضمون نگار کا یہ جھوٹ کہ کثیر التعداد بیعت کنندگان میں سے انصار اللہ تھے صرف اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی کل تعداد پونے دو سو سے کم تھی۔ لیکن سب انصار الله اس وقت قادیان میں موجود نہ تھے حالانکہ خود انہی کے بیان کے مطابق اس وقت اڑھائی ہزار کے