انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 250

بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔‘‘ (یہ اعلان جماعت کے بہت سے سربرآوردہ لوگوں کی طرف سے فرداً فرداً ہر ایک کے دستخظ کے ساتھ ہوا تھا۔جن میں سے مولوی محمد علی صاحب بھی تھے) یہ تحریر جو ۲؍جون ۱۹۰۸ءکے بد رمیں بغرض اعلان شائع کی گئی تھی ۲۷؍مئی ۱۹۰۸ءکو حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خدمت میں بطور درخواست پیش کی گئی تھی اور پھر حضرت ممدوح کی بیعت خلافت ہوچکنے کے بعد اخبار بدر کے پرچہ مذکورہ بالا میں ہی جناب خواجہ کمال الدین صاحب بحیثیت سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ اس بارہ میں حسب ذیل اعلان شائع کیا تھا۔’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھاجانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق…جناب حکیم نور الدین صاحب سلمہٗ کو آپ کا جانشیں اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی …یہ خط بطور اطلاع کُل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے۔کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامۃ خلیفۃ المسیح و المہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضر ہوکر بیعت کریں۔‘‘ اب کوئی نئی وصیت تو ان کے ہاتھ میں آئی نہ تھی کہ جس کی بناء پر وہ خلافت کو ناجائز سمجھنے لگے تھے۔پس حق یہی ہے کہ ان کو خیال تھا کہ خلافت کے لئے جماعت کی نظر کسی اور شخص پر پڑ رہی ہے۔جب فیصلہ سے مایوسی ہوئی تو مَیں نے مولوی صاحب سے کہا کہ چونکہ ہمارے نزدیک خلیفہ ہونا ضروری ہے اور آپ کے نزدیک خلیفہ کی ضرورت نہیں اور یہ ایک مذہبی امر ہے۔اس لئے آپ کی جو مرضی ہو کریں ہم لوگ جو خلافت کے قائل ہیں اپنے طور پر اکھٹے ہوکر اس امر کے متعلق مشورہ کرکے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیتے ہیں۔یہ کہہ کر میں اُٹھ کھڑا ہوا اور مجلس برخواست ہوئی۔خلیفہ کا انتخاب عصر کی نماز کا وقت تھا۔عصر کی نماز پڑھ کر ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار تک آدمیوں کے مجمع میں مکرمی خان محمد علی خان صاحب جاگیر دار مالیر کوٹلہ نے بحیثیت حضرت خلیفہ اوّل کے وصی ہونے کے مجلس میں آپ کی وصیت پڑھ کر سنائی اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ آپ کی وصیت کے مطابق کسی شخص کو آپ کا جانشیں تجویز کریں۔اس پر لوگوں نے