انوارالعلوم (جلد 6) — Page 241
انوار العلوم جلد 4 ۲۴۱ آئینہ صداقت ہو۔ پس آپ اس سوال کو جانے دیں کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو مشورہ اس امر کے متعلق ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو ؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ اس میں دقت ہے ۔ چونکہ عقائد کا اختلاف ہے اس لئے تعیین میں اختلاف ہو گا ہم لوگ کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر کیونکر بیعت کر سکتے ہیں ؟ جس کے ساتھ ہمیں اختلاف ہو؟ میں نے جواب دیا کہ اول تو ان امور اختلافیہ میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا اختلاف ہمیں ایک دوسرے کی بیعت سے روکے ۔ (اس وقت تک اختلاف عقائد نے اس طرح سختی کا رنگ نہ پکڑا کی تھا۔ لیکن بہر حال ہم اس امر کے لئے تیار ہیں کہ آپ میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں ۔ اس پر میں سے کے پر کر ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ یہ شکل ہے آپ سوچ نہیں اور مشورہ کر لیں اور کل پھر گفت گو ہو جاو ہے۔ اور کرلیں گفتگو ہو میں نے بھی ان سے درخواست کی کہ آپ بھی میرے خیالات کے متعلق اپنے دوستوں سے مشورہ کریں اور پھر مجھے بتائیں تاکہ دوبارہ گفتگو ہو جا وے ہیں ہم دونوں جدا ہو گئے ۔ رات کے وقت میں نے اپنے دوستوں کو جمع کیا اور ان کو خلافت سے انکار نہیں ہو سکتا رات کی سب گفت گو سنائی سب نے اس امر کا مشورہ دیا کہ خلافت نے سے انکار تو چونکہ مذہباً جائز نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو خلفاء کا انکار کرتا ہے وہ فاسق ہے اور خلافت کو اپنی نعمت قرار دیتا ہے۔ اس نعمت کو چھوڑنا تو جائز نہیں۔ میں نے ان کو بتایا کہ مولوی صاحب کی باتوں سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس امر پر زور دیں گے۔ مگر یہی رائے قرار پائی کہ یہ ایک مذہبی بات ہے جس کو دوسروں کے لئے قربان نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ لوگ ایک خلیفہ کی بیعت کر چکے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بیعت جائز تو ہے حرام نہیں اور ہمارے نزدیک بیعت نہ کرنا اور خود خلافت کو چھوڑ دینا حرام ہے۔ پس جب وہ اس امر کے انکار میں جسے وہ جائز سمجھتے ہیں اسقدر مصر ہیں تو ہم اس بات کو جسے ہم فرض سمجھتے ہیں کیونکہ ترک کرسکتے ہیں؟ اس پر مجلس برخواست ہو گئی۔ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر مولوی محمد علی صاحب کا ٹریکیٹ جیسا کہ مں نے پہلے دن تاکید کی تھی بہت سے لوگوں نے روزہ رکھنے کی تیاری کی ہوئی تھی۔ جن لوگوں کو تہجد کے لئے اُٹھنے کا موقع نہیں ملا کرتا تھا نوں نے روزہ رکنے کی تیاری کی ہوئی تھی جن لوگوں کو مسجد انہوں نے بھی نماز تہجد ادا کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا ۔ دو بجے کے قریب میں اُٹھا اور نماز تہجد ادا کرنے انٹا اور تعداد کی تیاری کی۔ ابھی میں وضو کر رہا تھا کہ ایک شخص نے میرے ہاتھ میں ایک ٹریکٹ دیا اور کہا کہ یہ ٹرکیٹ کی۔ ابھی میں کر ہا نے میرے ہاتھ میں ایک ٹریکٹ دیا اور کہاک تمام راستہ میں بیرون جات سے آنے والے احمدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جب میں نے اس ٹریٹ جات سےآنے می تقیم کیاگیا ہے جب میں نے کو دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوا تھا اور اس میں جماعت کو اکسایا گیا تھا کہ آئندہ خلافت وہ علی