انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 237

دیں۔گو مَیں حیران تھا کہ اظہارالحق نامی ٹریکٹوں کی اشاعت کے بعد لوگوں کا جماعت کے اختلاف سے ناواقف ہونا کیا معنے رکھتا ہے؟ مگر مَیں نے مولوی صاحب کی اس بات کو قبول کرلیا۔مَیں اس وقت تک نہیں جانتا تھا کہ یہ بھی ایک دھوکا ہےجو مجھ سے کیا گیا ہے لیکن بعد کے واقعات نےثابت کردیا کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے مدعا کے پورا کرنے کے لئے کسی فریب اور دھوکے سے بھی پرہیز نہیں کیا اورا س اشتہار پر دستخظ کرنے سے انکار کی وجہ یہ نہ تھی کہ عام طور پر معلوم ہوجاوے گا کہ جماعت میں کچھ اختلاف ہے بلکہ ان کی غرض کچھ اور تھی۔خلیفۃ المسیح کے ایّام بیماری میں ایک خاص اجتماع قادیان کے لوگ مسجد نور میں جو سکول کی مسجد ہے اور خان محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی کوٹھی کے قریب ہے جہااں کہ ان دنوں حضرت خلیفۃ المسیح بیمار تھے جمع ہوئے اور مَیں اور مولوی محمد علی صاحب تقریر کرنے کے لئے وہاں گئے مولوی محمد علی صاحب نے پہلے خواہش ظاہر کی کہ پہلے مَیں تقریر کروں اوربغیر کسی خیال کے تقریر کے لئے کھڑا ہوگیا اور اس میں مَیں نے وہی اشتہار کا مضمون دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سُنا دیا اور اتفاق پر زور دیا۔جب مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے تو انہوں نے بجائے اتفاق پر زور دینے کے پچھلے قصوں کو دہرانا شروع کیا اور لوگوں کو ڈانٹنا شروع کیا کہ وہ خواجہ صاحب پر یا ان کے دوسرے ہم خیالوں پر کیوں حملہ کرتے ہیں؟ اورخوب زجرو توبیخ کی۔لوگ میرے لحاظ سے بیٹھے رہے ورنہ ممکن تھا کہ بجائے فساد کے رفع ہونے کے ایک نیا فساد کھڑا ہوجاتا اور اسی مجلس میں ایک نئی بحث چھڑ جاتی۔آخر میں کچھ کلمات اتفاق کے متعلق بھی انہوں نے کہے مگر وہ بھی سخت لہجہ میں جس سے لوگوں میں زیادہ نفرت پیدا ہوئی اور افتراق میں ترقی ہوئی۔جماعت کے اتحاد کی کوششیں چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت کچھ دنوں سے زیادہ علیل تھی اور لوگ نہایت افسوس کے ساتھ آنےوالے خطرہ کو دیکھ رہے تھے۔طبعاًہرایک شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو رہا تھا کہ اب کیا ہوگا؟ میں تو برابر دُعائوں میں مشغول تھا اور دوسرے دوستوں کو بھی دُعائوں کے لئے تاکید کرتا تھا۔اس وقت اختلافی مسائل میرے سامنے نہ تھے بلکہ جماعت کا اتحاد مد نظر تھا اور اس کے زائل ہوجانے کا خوف میرے دل کو کھا رہا تھا۔چنانچہ اس امر کے متعلق مختلف ذی اثر احمدیوں سے میں نے گفتگوئیں کیں۔عام طور پر ان لوگوں کا جو خلافت کے مُقِر تھے اور نبوت مسیح موعود ؑ کے قائل تھے یہی خیال تھا کہ ایسے شخص کے ہاتےپر بیعت نہیں کی جاسکتی۔جس کے عقائد ان عقائد کے خلاف ہوں۔کیونکہ اس