انوارالعلوم (جلد 6) — Page 234
سےپھر استدالال نہیں کیا۔غرض ایسےغلط معنےحضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی طرف کبھی منسوب نہیں کئے جاسکتے اور نہ یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے ان معنوں کو پسند کیا ہوگا۔اس امر کی تائید میں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نےہرگز ان معنوں کو پسند نہیں کیا یہ ثبوت بھی ہے کہ آپ کے درس قرآن کریم کے نوٹوں میں آپ نے وہی معنی کئے ہیں جو ہم نے پہلے لکھے ہیں آپ فرماتے ہیں:- فرمایا’’قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُم ْکےیہ معنی نہیں کہ اللہ اللہ کرتے رہو کیونکہ محض اللہ اللہ ذکر ہماری شریعت اسلامی میں ثابت نہیں بلکہ یہ تو جواب ہے مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ کا۔یہ کتاب کس نے اتاری ؟ تُو کہہ اللہ نے۔(بدر مؤرخہ ۲،۹ ستمبر ۱۹۱۰ء جلد ۴۵،۴۶) پس آپ کے مطبوعہ معنوں کے خلاف ایک اور معنی جو عربی زبان کے خلا ف ہیں آپ کی طرف منسوب کرنا کس قدر ظلم اور دیدہ دلیری ہے؟ اورجس رسالہ میں قراان کریم کی آیت کے ایسے غلط معنے کرکے مسئلہ کفر واسلام کو ثابت کیا گیا ہو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح کی پسند کردہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح تو نہ صرف یہ کہ ان معنوں کے خلاف ایک اور معنے کرتے ہیں بلکہ یہ فرما کر کہ قُلِ اللّٰہُ جواب ہے مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ کا مولوی محمد علی صاحب کے معنوں کو بالکل ردّ کردیتے ہیں۔تیسری شہادت تیسری شہادت اس بات کے رد میں یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے کہ آپؒکایہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص ایک دفعہ دِل سے اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہہ دے تو وہ مؤمن ہوجاتا ہے۔چاہے پھر اس سے شرک کفر یا ظلم سرزد ہو۔(مسئلہ کفر واسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ۲) یہ قول ایسا بے معنی اور بیہودہ ہے کہ عقل اس کے سننے سے انکار کرتی ہے۔مگر مولوی محمد علی صاحب نہ صرف یہ کہ اس کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں بلکہ اسے ان کا مذہب قرار دیتے ہیں مگر باوجود بار بار کے مطالبہ کے کہ امام ابو حنیفہ کی کون سے مخفی کتاب آپ کے ہاتھ آگئی ہے؟ جس میں یہ مذہب ان کا بیان ہے یا ان کے کس شاگر د نے ان سے یہ مذہب نقل کیا ہے وہ بالک ساکت و خاموش ہیں اور کوئی جواب نہیں دیتے اور صرف کہہ دیتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کو ایسا ہی لکھوایا تھا حالانکہ حضرت خلیفۃ المسیح خود تو امام ابو حنیفہ ؒ کے وقت میں تھے