انوارالعلوم (جلد 6) — Page 222
انوار العلوم جلد 4 لئے وہی اس کے محرک ہیں۔ ۲۲۲ آئینه صداقت اس کے آگے ذاتی عیوب کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کا سمجھنا بغیر تفصیل کے بیرو نجات کے لوگوں کے لئے مشکل ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ بیت لوگوں کو در غلا رہے ہیں اور بزرگان سلسلہ کو بد نام کر رہے ہیں اور جماعت کو اکسایا ہے کہ احمدی جماعت کو اس مصیبت سے بچانے کی کوشش کریں اور راقم ٹریکیٹ سے اس امر میں خط و کتابت کریں۔ ٹریکٹ لکھنے والا کون تھا ؟ اس ٹریکٹ کے آخرمیں گو نا ن تھا مگر چند باتیں اس کی اس قسم کی تھیں جو صاف طور پر بتلاتی ہیں کہ ان ٹرکیٹوں کے والاکون تھا لکھنے والے کون تھے ؟ اول :- یہ تمام کے تمام ٹریکیٹ لاہور سے شائع ہوتے تھے جو اس وقت مولوی محمد علی صاح محمد علی صاحب کے ہم خیالوں کا مرکزہ تھا۔ مرکز کے لفظ سے یہ مراد نہیں کہ اس وقت بھی قادیان کے مقابلہ پر لاہور کو مرکز ظاہر کیا جاتا تھا۔ بلکہ بوجہ اس کے کہ مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کے اکثر آدمی وہاں ہی رہتے تھے اور اخبار پیغام صلح ان کا آرگن بھی وہیں سے شائع ہوتا تھا۔ لاہور اس وقت بھی مرکز کہلانے کا مستحق تھا گو کھلم کھلا طور پر حضرت خلیفہ اول کی وفات پر اسے مرکز قرار دیا گیا ہے۔ ۱۲- اکثر جگہ پر یہ ٹریکیٹ پیغام صلح کی مطبوعہ چیٹوں میں بند شدہ پہنچا تھا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دفتر پیغام صلح سے یہ بھیجا گیا تھا ۔ یا یہ کہ پیغام صلح کے متعلقین اس کی اشاعت میں دخل رکھتے تھے۔ -۱۳- اس ٹریکیٹ کا لکھنے والا لوگوں سے چاہتا ہے کہ وہ اس سے اس کے مضمون کے متعلق خط و کتابت کریں لیکن اپنا پتہ نہیں دیتا جس سے طبعاً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ پتہ نہیں دیتا تو لوگ اس سے خط و کتابت کیونکہ کریں ؟ اور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے پہلے پتہ لکھا ہے پھر مصلحتاً اسے کاٹ دیا ہے لیکن چونکہ اصل مضمون میں سے یہ عبارت کہ لوگ اس سے خط و کتابت کریں نہیں گئی ہوئی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مضمون چھپنا شروع ہو گیا ہے تب پتہ کاٹنے کا خیال ہوا اور چونکہ اصل مضمون کا کوئی حصہ کاٹنے میں دیر لگتی تھی اور عبارت خراب ہونے کا خطرہ تھا اس لئے اسے اسی طرح رہنے دیا ہے ۔ اب ہم بعض ٹریکیوں کو دیکھتے ہیں تو ان پر سے انگلی سے رگڑ کر مضمون کے خاتمہ پر کچھ عبارت کئی ہوئی ہے اور بعض ٹریکیٹ ہمیں ایسے بھی ملتے ہیں جن پر معرفت اخبار “ کا لفظ کتنے سے رہ گیا ہے اور باقی کٹا ہوا ہے۔ یہ الفاظ " معرفت اخبار کے صاف طور پر بلاتے ہیں کہ پہلے خط وکتابت