انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 216

انوار العلوم جلد 4 ۲۱۶ آئینہ صداقت غرض پوری کوشش کی گئی کہ احمدیت کا نام درمیان سے اُٹھ جائے اور احمدی اور غیر احمدی ایک ہو جاویں۔ ان اخبارات کے شائع ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ کانپور کی ایک کا مسجد کا پورا واقعہ ہے یا ان کے گانے جانے سامان ہندی خود بیا مسجد کے غسل خانہ کے گرائے جانے پر مسلمانان ہند میں شور برپا ہوا جن لوگوں نے اس مسجد کے گرانے پر بلوہ کیا تھا اور مارے گئے ان کو شہید کا خطاب دیا گیا اور گورنمنٹ کے خلاف بڑے زور سے مضامین لکھے گئے۔ پیغام صلح نے بھی ان اخبارات کا ساتھ دیا جو اس وقت گورنمنٹ کے خلاف لکھ رہے تھے ۔ حضرت خلیفہ المسیح سے خاص آدمی بھیج کر رائے طلب کی گئی اور مولوی محمد علی صاحب سے مضمون لکھوائے گئے ۔ مولوی محمد علی صاحب کے مضامین تو صریح فسادیوں کی حمایت میں تھے مگر حضرت خلیفہ المسیح کی صائب رائے کو اس طرح بگاڑ کر شائع کیا گیا کہ اس کا مطلب اور کا اور بن گیا ۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ گورنمنٹ نے اس موقع پر نہایت نا واجب سختی سے کام لیا ہے اور مسجد کا گرانا درست نہ تھا۔ حالانکہ آپ نے مجھے یہ لکھوایا تھا کہ غسل خانہ مسجد میں نہیں اور شور و فساد میں لوگوں کو حصہ نہیں لینا چاہئے ۔ جب پیغام صلح کے یہ مضامین حضرت خلیفتہ المسیح الاول کو دکھائے گئے تو آپ نے ان کو نہایت نا پسند کیا۔ اور خود دو مضامین مجھ سے لکھوائے ۔ جن کے نوٹ اب تک میرے پاس موجود ہیں ۔ ان میں خاص طور پر زور دیا گیا تھا کہ غسل خانے مسجد کا جزو نہیں ہیں اور یہ کہ جو لوگ اس موقع پر شورش کر رہے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور منافقانہ کارروائی کر رہے ہیں (حاشیه صفحه سابقه) میں پڑھ کر سنائے۔ خلافت مدعا جوید که ما از آن سلطانیم اخوت بر ملا گوید که او از آن ما باشد حرز اسے دشمنان ملت بیضا ازاں ساعت که در دست امیر مالوائے مصطفی باشد مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار کی مراجعت لاہور پیغام جلد نمبر نمبر ، ها) جیسا کہ ہم ۳ اگست کی اشاعت میں مختصر اطلاع شائع کر چکے ہیں۔ اس اتوار کی صبح کو قریباً ساڑھے نو بجے مولوی ظفر علی صاحب بھٹی میل سے مع الخیرہ ہور پہنچے ۔۔۔ احمد یہ بلڈنگس کے پاس پہنچ کر حلقہ احباب نے بڑے جوش کے ساتھ مکرمی خواجہ کمال الدین صاحب کے لئے دعائیہ نعرے مارے " د پیغام جلد نمیرا نمبر ۱۲ حت)