انوارالعلوم (جلد 6) — Page 210
انوار العلوم جلد 4 ٢١٠ آئینه صداقت ذکر سننے کے لئے شاید آئیں گے ہی نہیں۔ اور اگر آویں گے تو اتنے کم کہ خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء کو یہ کہنے کا موقع مل جاوے گا کہ ہمارا ہی طرز تبلیغ درست ہے کہ جس کے باعث لوگ شوق سے سننے کے لئے آجاتے ہیں آخر ہوتے ہوتے تعلق کی زیادتی پر احمدی بھی ہو جاویں گے لیس و شمش و پنج کی حالت میں تھے اور اس طریق کو نا پسند کرتے ہوئے اس طریق کی نقل کو اپنے کام کے لئے ضروری سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اگر لوگوں پر یہ ثابت ہو جاوے کہ احمدیوں میں خواجہ صاحب سے زیادہ واقف اور لوگ بھی موجود ہیں تو خود بخود وہ ادھر متوجہ ہو جاویں گے اور اس وقت ان کو اصل حال سے آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔ خواجہ صاحب کے طرز عمل کی غلطی پہلے خواجہ صاحب کی حقیقت کھولنے کے لئےضروری پہلے کی ہے کہ ان ہی کے ایجاد کردہ طریق سے ان کا مقابلہ کیا جا ہے ۔ مگر یہ ان کا خیال غلط تھا۔ اگر وہ اس راستہ پر پڑ جاتے تو ضرور کچھ مدت کے بعد اسی رنگ میں رنگین ہو جاتے جس میں خواجہ صاحب رنگین ہو چکے تھے اور آخر احمدیت سے دور جا پڑتے میں صاحب زمین تھے اور احدیت سے ان کی نجات اسی میں تھی کہ پہلے کی طرح ہر موقع مناسب پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی کو پیش کرتے ۔ اور لوگوں کے آنے یا نہ آنے کی پرواہ نہ کرتے۔ اور یہ بھی ایک وہم تھا کہ لوگ بنیں گے نہیں۔ لوگ عموماً شخصیت کی وجہ سے آتے ہیں۔ نہ مضمون لیکچر کے سب سے۔ ایک مشہور شخص ایک معمولی سے معمولی امر کے متعلق لیکچر دینے کے لئے کھڑا ہو جاوے لوگ اسی پر اکٹھے ہو جاویں گے یہ اور بات ہے کہ پیچھے اس پر جرح و قدح کریں۔ لیکم مثلاً اسی سفر میں میرا لیکچر کا نپور میں ہوا۔ چونکہ اشتہار میں کھول کر بتایا کا نہیں لیا پیچھے گیا تھا کہ لیکچر سلسلہ احمدیہ کے امتیازات پر ہوگا۔ خیال تھا کہ لوگ شاید سننے نہ آئیں گے مگر لوگ بہت کثرت سے آئے اور جو جگہ تیار کی گئی تھی وہ بالکل بھر گئی اور بہت سے لوگ کھڑے رہے۔ ڈیڑھ ہزار یا اس سے بھی زیادہ کا مجمع ہوا ۔ اور عموماً تعلیم یافتہ لوگ اور حکام اور ناجر اس میں شامل ہوئے اور اڑھائی گھنٹہ تک نہایت شوق سے سب نے لیکچر سنا اور جب میں بیٹھ گیا تو تب بھی لوگ نہ اُٹھے اور انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ سانس لینے کے لئے بیٹھے ہیں آخر اعلان کیا گیا کہ پکچر ختم ہو چکا ہے ۔ اب سب صاحبان تشریف لے جائیں تب لوگوں نے شور مچایا کہ ان کو کھڑا کیا جاوے کہ بہت سے لوگ مصافحہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو دن کے وقت ہمارے منہ پر ہمیں کا فرکمہ کر گئے تھے بڑھ بڑھ کر علاوہ مصافحہ کرنے کے میرے ہاتھ بھی چومتے تھے۔