انوارالعلوم (جلد 6) — Page 208
اور اسی طرح دوسرے مسائل میں بھی جیسا رنگ حضرت خلیفۃ المسیح کا دیکھتے اسی طرح ہاں میں ہاں ملادیتے۔جس سے اکثر آپ یہی خیال فرماتے کہ یہ لوگ نہایت خیر خواہ اور راسخ العقیدہ ہیں۔اور ان کی پچھلی حرکات پر پردہ ڈالتے۔اور اگر لوگ ان کی کاروائیاں یاد دلاتے تو آپ بعض دفعہ ناراض بھی ہوتے اور فرماتے کہ غلطیاں سب انسانوں سے ہوتی ہیں اگر ان سے ہوگئیں تو ان کے پیچھے کیوں پڑگئے ہو۔اب یہ بالکل درست ہیں مگر حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے سارتھ ہی یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ لوگ دھوکا دیتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح نے اگر انکی کوئی تعریف کی ہے تو یہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے۔کیونکہ اس سے ان کی تعریف ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ آپ کےوقت میں منافقت سےکام کرتے تھے کیونکہ جن باتوں کی نسبت حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ یہ مانتے ہیں ان پر یہ الزم مت لگائو کہ یہ ان کو نہیں مانتے۔آپ کی وفگات کے بعد انہوں نے اس سے انکار کردیا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئےکہ بناوت بناوٹ ہی ہوتی ہے درمیان میں کبھی کبھی ان لوگوں کی حرکات سے حضرت خلیفۃ المسیح سمجھ بھی جاتے تھے کہ یہ لوگ دھوکا دے رہے ہیں۔اور اس کا اظہار بھی فرماتے تھے۔مگر پھر ان لوگوں کے معافی مانگ لینے پر خیال فرماتےتھے کہ شاید غلطی ہوگئی ہو اوردل سے ان لوگوں نے یہ حرکت نہ کی ہو۔کیونکہ حسن ظنی آپ کی طبیعت میں بہت بڑھی ہوئی تھی اوررحم فطرت میں و دیعت تھا۔غرض ایک عجیب سی حالت پیدا ہوگئی تھی۔ایک طرف تو عام طور پر اپنے زہریلے خیالات پھیلانے کے باعث یہ لوگ جماعت کی نظروں سے گرتے جاتے تھے۔دوسری طرف حضرت خلیفۃ المسیح سے خوف کرکے کہ آپ ان کے اخراج کا اعلان نہ کردیں یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح آپ کی زندگی میں جماعت میں ہی ملے رہیں۔اس لئے آپ کے سامنے اپنے آپ کو نہایت مطیع ظاہر کرتے تھے۔مگر کبھی کبھی اپنی اصلیت کی طرف بھی لوٹتے تھے اورایسی حرکات کردیتے جس سے آ پ کو آگاہی ہوجاتی۔مگر پھر فوراً معافی مانگ کر اپنے آپ کو سزا سے بچا بھی لیتے۔خواجہ صاحب کے طرزِ عمل کا جماعت پر اثر اس وقت جماعت میں تبلیغ احمدیت کے متعلق جو کمزوری پیدا ہوگئی تھی اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ یا تو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت میں یہ حال تھا کہ عبدالحکیم مُرتد حضرت مسیح موعودؑ کو لکھتا ہے کہ احمدی سوائے آپ کےذکر کے کچھ سُننا ہی پسند نہیں کرتے۔ہر وعظ میں