انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 206

انوار العلوم جلد 4 ۲۰۶ آئینه صداقت خلافت کا شائق سمجھ کر یہ چال چلی تھی کہ اس طرح مطمئن کر دیں اور خود موقع پر پہنچ کر اپنے منشاء کے مطابق کوئی تجویز کریں ۔ ورنہ اگر وہ میری خلافت پر متفق تھے تو اس بات کے کیا معنے ہوئے کہ ان کا انتظار کیا جاوے ورنہ فتنہ ہوگا۔ جب ان کے نزدیک بھی مجھے ہی خلیفہ ہونا چاہئے تھا تو ان کی عدم موجودگی میں بھی اگر یہ کام ہو جاتا تو فتنہ کا باعث کیوں ہوتا۔ انصار اللہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانی مریض کے مرض روحانی میں بڑھنے کے لئے بھی سامان پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح ان لوگوں کے ساتھ ہوا ۔ فروری شاہ میں میں نے ایک رویا دیکھی کہ :- ۱۹۱۱ ایک بڑا محل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے اور اس میں ہزاروں آدمی تھیروں کا کام کر رہے ہیں اور بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے اور یہ کون لوگ ہیں اور اس مکان کو کیوں گرا رہے ہیں؟ تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمدیہ ہے اور اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں تا پُرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے) اور بعض کچی اینٹیں بچی کی جائیں ۔ اور یہ لوگ اینٹیں اس لئے پاتھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جائے اور وسیع کیا جائے۔ یہ ایک عجیب بات تھی کہ سب پتھروں کا منہ کو جائے اور جائے۔ یہ بات مشرق کی طرف تھا۔ اس وقت دل میں خیال گزرا کہ یہ پھیرے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے بلکہ فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر کام کر رہے ہیں۔ ( بدر ۲۳ فروری سالانه ) اس رویا سے تحریک پاکر میں نے حضرت خلیفہ المسیح کی اجازت سے ایک انجمن بنائی جس کے فرائض تبلیغ سلسلہ احمدیہ ، حضرت خلیفۃ المسیح کی فرمانبرداری ، تسبیح ، تحمید و درود کی کثرت، قرآن کریم اور احادیث کا پڑھنا اور پڑھانا ، آپس میں محبت بڑھانا ، بدظنی اور تفرقہ سے بچنا ، نماز با جماعت کی پابندی رکھنا تھے۔ ممبر ہونے کے لئے یہ شرط رکھی گئی کہ سات دن متواتر استخارہ کے بعد کوئی شخص اس انجمن میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس کے بغیر نہیں ۔ اس انجمن کا اعلان ہونا تھا کہ اعتراضات کی بوچھاڑ ہونی شروع ہو گئی ۔ اور صاف طور پر ظاہر کیا جانے لگا کہ اس انجمن کا قیام بغرض حصول خلافت ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس انجمن کے ممبروں میں سے ایک خاصی تعداد اس وقت ان لوگوں کے ساتھ ہے ۔ اور وہ لوگ گواہی دے سکتے ہیں کہ اس انجمن کا کوئی تعلق تغیرات خلافت کے متعلق نہ