انوارالعلوم (جلد 6) — Page 205
انوار العلوم جلد 4 ۲۰۵ آئینه صداقت یہ جواب دیا کہ ہاں جماعت میں فساد کے مٹانے کے لئے کوئی تجویز ضرور کرنی چاہئیے۔ مگر میں نے اس وقت کی ذمہ داری کو محسوس کر لیا اور صحابہ کا طریق میری نظروں کے سامنے آگیا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے متعلق تجویز خواہ وہ اس کی وفات کے بعد کے لئے ہی کیوں نہ ہو نا جائز ہے ۔ پس میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں اس کے جانشین کے متعلق تعیین کر دینی اور فیصلہ کر دینا کہ اس کے بعد فلاں شخص خلیفہ ہو گناہ ہے۔ میں تو اس امر میں کلام کرنے کو ہی گناہ سمجھتا ہوں ۔ جیسا کہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے۔ خواجہ صاحب کی اس تقریر میں بعض باتیں خاص توجہ کے قابل تھیں ۔ اول تو یہ کہ اس سے ایک گھنٹہ پہلے تو انہی لوگوں نے حضرت خلیفہ مامیچ سے کہا تھا کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں وصیت کی ضرورت نہیں۔ اور وہاں سے اُٹھتے ہی آئندہ کا انتظام سوچنا شروع کر دیا ۔ دوسری بات یہ کہ ان کی تقریر سے صاف طور پر اس طرف اشارہ نکلتا تھا کہ ان کو توخلافت کی خواہش نہیں لیکن مجھے ہے ۔ مگر میں نے اس وقت ان بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہ سمجھی ۔ کیونکہ ایک دینی سوال در پیش تھا اور اس کی نگہداشت سب سے زیادہ ضروری تھی ۔ مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب کی خلیفہ ہونے کی خواہش جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے ۔ مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب کی یہ بات کہ ہم خلافت کے خواہشمند نہیں ہیں اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ لفظ خلافت کے خواہشمند نہیں ہیں کیونکہ ان لوگوں نے خلافت کی جگہ ایک نئی قسم کا عہدہ پریزیڈنٹ یا امیر جماعت کا وضع کر لیا ہے۔ جو عملاً خلیفہ کا مترادف سمجھا جاتا ہے اور جس کے مدعی اس وقت مولوی محمد علی صاحب ہیں اور خواجہ صاحب تو اب اپنے آپ کو خلیفہ امسیح لکھتے ہیں ۔ گو ان کو خلافت کی کوئی بات بھی میسر نہیں اور شاید یہ خطاب جو ان کے دوستوں نے ان کو دیا ہے ۔ اور انہوں نے بھی اپنے لئے پسند کر لیا ہے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا کے طور پر ہے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ وہ خلافت کے اس قدر شائق تھے کہ خلیفہ المسیح ہونا تو الگ رہا اگر خلافت نہ ملے تو خالی نام ہی سے وہ اپنا دل خوش کرتے ہیں ۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تجویز جو قریب وہی خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء نے میرے سامنے پیش کی در حقیقت ایک غریب تھا اور گو اس وقت اس امر کا خیال نہیں ہو سکتا ۔ مگر اب معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے اپنے خیال میں مجھے コン