انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 203

احمدیہ کے موقعہ پر انہوں نے ایک بحث کے دوران جو احمدیہ جماعت کے جلسوں کی ضرورت یا عدم ضرورت پر تھی۔بڑی سختی سے خواجہ صاحب پر حملہ کیاتھا۔پس یہی معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۱۰؁ء یا گیارہ عیسوی میں مذکورہ حالات کے اثر کے نیچے مولوی محمد علی صاحب کے خیالات میں تغیّر پیدا ہوا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کو خاص وقعت دینے کی کوشش جبکہ خواجہ صاحب کی خاص کوششیں سلسلہ احمدیہ کے اُصول کو بدلنے کے متعلق جاری تھیں۔اور وہ اپنے اغراض کو پورا کرنے کے لئے ہر طرح سعی کررہے تھے اور جماعت کو اس کے مرکز سے ہتا دینے اور غیر احمدیوں میں ملادینے سے بھی وہ نہ ڈرتے تھے۔جماعت کے سیاسی انتظام کے بدلنے کی فکر بھی ان لوگوں کےذہن سے نکل نہیں گئی تھی۔اس امر کے لئے دو طرح کوشش کی جاتی تھی ایک تو اس طرح کہ حضرت خلیفۃ المسیح کے تمام احکام کو ہدایات پریڈیڈنٹ کے رنگ میں ظاہر کیا جاتا تھا۔جیسا کہ مَیں پہلے بیان کرچکا ہو اور دوسرے اس طرح کہ مولوی محمد علی صاحب کو خلیفہ کی حیثیت دی جائے تا کہ جماعت پر ان کا خاص اثر ہوجاوے۔اور دوسرے لوگوں کی نظر یں بھی ان کی طرف اُٹھنے لگیں۔چنانچہ انجمن کے اجلاسات میں صاف طور پر کہاجاتا تھا کہ جو کچھ مولوی صاحب حکم دیں گے وہی ہم کریں گے۔اورایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے صاف طور پر یہ الفاظ کہے کہ ہمارفے تو یہ امیر ہیں۔بیان کیاجاتا ہے کہ ۱۹۱۱ء؁میں مذہبی کانفرنس کے موقع پر جب مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب اپنے مضامینسنانے کے لئے گئے تو لوگوں کے دریافت کرنے پر خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کو اپنا پِیریا لیڈر بیان کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی زندگی میں ہی یہ بات عام طور پر بیان ہوتی چلی آئی ہے۔مگر خواجہ صاحب نے کبھی اس کی تردید نہیں کی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ درست ہی ہے۔اسی طرح اورسب معاملات میں مولوی محمد علی صاحب کو اسی طرح آگے کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ لوگوں کی نظریں حضرت خلیفۃ المسیح کی طرف سے ہٹ کر انہی کی طرف متوجہ ہوجاویں۔بے جا کو ششوں کا اکارت جانا مگر یہ دونوں کوشیشیں ان کی بیکار گئیں۔پہلی کوشش تو اس طرح کہ ۱۹۱۰ء؁ میں حضرت خلیفۃ المسیح نے صدرانجمن احمدیہ کو لکھ دیا کہ مَیں چونکہ خلیفہ ہوں۔ممبر انجمن اورصدرانجمن نہیں رہ سکتا۔میری جگہ مرزا محمود احمد کو پریڈیڈنٹ مقرر کیاجاوے۔اس طرح اس تدبیر کا تو خاتمہ ہوا۔حضرت خلیفۃ المسیح انجمن سے علیحدہ ہوگئے اورآپ کی جگہ میں صدر ہوگیا اوراب یہ ظاہر کرنے کا موقع نہ رہا کہ خلیفہ کی