انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 194

علیحدہ کرنا چاہتے تھے۔وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے لگے۔اور یا خلافت کے مخالف تھے یا اس کے دامن سے وابستہ ہوگئے آپ نے دوران لیکچر ان لوگوں پر بھی اظہار ناراضگی فرمایا۔جو خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کرتے رہے تھے۔اورفرمایا کہ جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے۔انکو اس کام پر ہم نے کب ما ٔمور کیا تھا۔آخر تقریر کے خاتمہ پر بعض اشخاص نے اپنے خیالات کے اظہار کے لئے کہا۔خیالات کا اظہار کسی نے کیا کرنا تھا۔تمام مجلس سوائے چند لوگوں کے حق کو قبول کرچکی تھی۔مجھ سے اور نواب محمد علی خان سے جو میرے بہنوئی ہیں۔رائے دریافت کی۔ہم نے بتایا کہ ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے مؤید ہیں۔خواجہ صاحب کو کھڑا کیا۔انہوں نے بھی مصلحت وقت کے ماتحت گول مول الفاظ کہہ کر وقت کو گزارنا ہی مناسب سمجھا اور پھر فرمایا کہ آپ لوگ دوبارہ بیعت کریں اور خواجہ صاحب اورمولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ الگ ہوکر آپ مشورہ کرلیں اوراگر تیار ہوں تب بیعت کریں۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم سے جو اس جلسہ کے بانی تھے۔جس میں خلافت کی تائید کے لئے دستخط لئے گئے تھے۔کہا کہ ان سے بھی غلطی ہوئی ہے۔وہ بھی بیعت کریں۔نمائشی بیعت غرض ان تینوں کی بیعت دوبارہ لی اورجلسہ برخواست ہوا۔اس وقت ہر ایک شخص مطمئن تھا اور محسوس کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے جماعت کو بڑے ابتلاء سے بچایا۔لیکن مولوی محمد علی صاحب اورخواجہ صاحب جو ابھی بیعت کرچکے تھے۔اپنے دل میں سخت ناراض تھے اوران کی وہ بیعت جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کردیا۔دکھاوے کی بیعت تھی۔انہوں نے ہرگز خلیفہ کو واجب الاطاعت تسلیم نہ کیا تھا۔اورجیسا کہ بیان ہے ) مسجد کی چھت سے نیچے اُترتے ہی مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو کہا کہ آج ہماری سخت ہتک کی گئی ہے۔مَیں اس کو برداشت نہیں کرسکتا۔ہمیں مجلس میں جو تیاں ماری گئی ہیں۔یہ ہے صدق اس شخص کا جو آج جماعت کا اصلاح کا مدعی ہے۔ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیّر کی اگر اکیلی روایت ہوتی تو مَیں اس کو اس جگہ درج نہ کرتا۔کیونکہ وہ خواہ کتنے ہی معتبر راوی ہوں۔پھر بھی ایک ہی شاہد ہیں۔اورمیں اس کتاب میں صرف وہ واقعات درج کرنا چاہتا ہوں جو یقینی طور پر ثابت ہوں۔مگر بعد کے واقعات نے چونکہ اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ ان کی بعیت محض خوف کی بیعت تھی اورمصلحت وقت کی بیعت تھی۔اسلئے ان کے بیان سے انکار کرنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں اور علاوہ ازیں ابھی چند دن نہ گزرے تھےکہ میری موجودگی میں مولوی محمد علی صاحب