انوارالعلوم (جلد 6) — Page 194
انوار العلوم جلد 4 ۱۹۴ آئینه صداقت علیحدہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے گئے ۔ اور یا خلافت کے مخالف تھے یا اس کے دامن سے وابستہ ہو گئے آپ نے دوران لیکچر ان لوگوں پر بھی اظہار ناراضگی فرمایا جو خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کرتے رہے تھے اور فرمایا کہ جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے ۔ ان کو اس کام پر ہم نے کب مامور کیا تھا ۔ آخر تقریر کے خاتمہ پر بعض اشخاص نے اپنے خیالات ہم کے اظہار کے لئے کہا۔ خیالات کا اظہار کسی نے کیا کرنا تھا ۔ تمام مجلس سوائے چند لوگوں کے حق کو قبول کر چکی تھی۔ مجھ سے اور نواب محمد علی خان سے جو میرے سے بہنوئی ہیں۔ رائے دریافت کی ۔ ہم نے بتایا کہ ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے مؤید ہیں۔ خواجہ صاحب کو کھڑا کیا۔ انہوں نے بھی مصلحت وقت کے ما تحت گول مول الفاظ کہ کر وقت کو گزارنا ہی مناسب سمجھا اور پھر فرمایا کہ آپ لوگ دوبارہ بیعت کریں اور خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ الگ ہو کر آپ مشورہ کر لیں اور اگر تیار ہوں تب بیعت کریں۔ اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم سے جو اس جلسہ کے بانی تھے۔ جس میں خلافت کی تائید کے لئے دستخط لئے گئے تھے۔ کہا کہ ان سے بھی غلطی ہوئی ہے ۔ وہ بھی بیعت کریں ۔ نمائشی بیعت غرض ان تینوں کی بیت دو بار لی اور جلسہ برخواست ہوا۔ اس وقت ہر ایک شخص مطمئن تھا اور محسوس کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے جماعت کو بڑے ابتلاء سے بچایا ۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب جو ابھی بیعت کر چکے تھے۔ اپنے دل میں سخت ناراض تھے اور ان کی وہ بیعت جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا ۔ دکھاوے کی بیعت تھی ۔ انہوں نے ہرگز خلیفہ کو واجب الاطاعت تسلیم نہ کیا تھا اور جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے (ماسٹر عبد الرحیم صاحب نیز جو اس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے کا بیان ہے ، مسجد کی چھت سے نیچے اترتے ہی مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو کہا کہ آج ہماری سخت ہتک کی گئی ہے۔ میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا ۔ ہمیں مجلس میں جوتیاں ماری گئی ہیں ۔ یہ ہے صدق اس شخص کا جو آج جماعت کی اصلاح کا مدعی ہے۔ ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر کی اگر اکیلی روایت ہوتی تو میں اس کو اس جگہ درج نہ کرتا کیونکہ وہ خواہ کتنے ہی معتبر راوی ہوں۔ پھر بھی ایک ہی شاہد ہیں۔ اور میں اس کتاب میں صرف وہ واقعات درج کرنا اور وہ چاہتا ہوں جو یقینی طور پر ثابت ہوں ۔ مگر بعد کے واقعات نے چونکہ اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ان کی بعیت محض خوف کی بیعت تھی اور مصلحت وقت کی بیعت تھی ۔ اس لئے ان کے بیان سے انکار کرنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں اور علاوہ ازیں ابھی چند دن نہ گزرے تھے کہ میری موجودگی میں مولوی محمد علی صاحب