انوارالعلوم (جلد 6) — Page 190
انوارالعلوم جلد 1 ۱۹۰ آئینه صداقت تک پہنچا ہے آپ لوگ اس کیفیت کا اندازہ نہیں کر سکتے جو اس وقت احمدیوں پر طاری تھی سوائے چند خود غرض لوگوں کے باقی سب کے سب خواہ کسی خیال یا کسی عقیدہ کے ہوں مردہ کی طرح ہو رہے تھے اور ہم میں سے ہر ایک شخص اس امر کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا کہ وہ اور اس کے اہل و عیال کولہو میں پیس دیئے جاویں بہ نسبت اس کے کہ وہ اختلاف کا باعث نہیں۔ اس دن دنیا با وجود فراخی کے ہمارے لئے تنگ تھی اور زندگی با وجود آسائیش کے ہمارے لئے موت سے بدتر ہو رہی تھی۔ میں اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ جوں جوں رات گزرتی جاتی تھی اور صبح قریب ہوتی جاتی تھی کرب بڑھتا جاتا تھا اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا کر دعا کرتا تھا کہ خدایا میں نے گو ایک رائے کو دوسری پر ترجیح دی ہے مگر الٹی! میں بے ایمان بننا نہیں چاہتا تو اپنا فضل کر اور مجھے حق کی طرف ہدایت دے۔ مجھے اپنی رائے کی پیچ نہیں مجھے حق کی جستجو ہے ۔ راستی کی تلاش ہے دعا کے دوران میں میں نے یہ بھی فیصلہ کرلیا کہ اگر خدا تعالیٰ نے مجھے کچھ نہ بتایا توئیں جلسہ میں شامل ہی نہ ہوں گا تا کہ فتنہ کا باعث نہ بنوں ۔ جب میرا کرب اس حد تک پہنچا تو خدا کی رحمت کے دروازے کھلے اور اس نے اپنی رحمت کے دامن کے نیچے مجھے چھپا لیا اور میری زبان پر یہ لفظ جاری ہوئے کہ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَولا دعا وكم (الفرقان : ۷۸ ) یعنی ان لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارا رب تمہاری پر واہ کیا کرتا ہے اگر تم اس کے حضور گر نہ جاؤ ۔ جب یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے تو میرا سینہ کھل گیا اور میں نے جان لیا کہ میرا خیال درست ہے ۔ کیونکہ اس آیہ کریمیہ میں قل یعنی کہ کا لفظ بتاتا ہے کہ میں یہ بات دوسرں کو کہدوں پپس معلوم ہوا کہ جو لوگ میرے خیال کے خلاف خیال رکھتے ہیں ان سے خدا تعالیٰ ناراض ہے نہ مجھ سے تب میں اُٹھا اور میں نے خدا تعالیٰ کا شکر کیا اور میرا دل مطمئن ہو گیا اور میں صبح کا انتظار کرنے لگا۔ یوں تو احمدی عموماً تستجد پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ مگر یہ رات عجیب رات تھی کہ بہتوں نے قریباً جاگتے ہوئے یہ رات کائی ۔ اور قریباً سب کے سب مسجد کے وقت سے مسجد مبارک میں جمع ہو گئے تاکہ دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے مدد چا ہیں۔ اور اس دن اس قدر دردمندانہ دعائیں کی گئیں کہ میں یقین کرتا ہوں کہ عرش عظیم ان سے ہل گیا ہو گا۔ سوائے گریہ و بکا کے اور کچھ سنائی نہ دیتا تھا اور اپنے رب کے سوا کسی کی نظر اور کسی طرف نہ جاتی تھی اور خدا کے سوا کوئی نا خدا نظر نہ آتا تھا ۔ آخر صبح ہوئی اور نماز کی تیاری شروع ہوئی ۔ چونکہ حضرت خلیفہ اول کو آنے میں کچھ دیر ہو گئی ۔ خواجہ صاح راجہ صاحب کے رفقاء نے اس موقع کو غنیمت جان کر لوگوں کو پھر سبق پڑھا نا شروع کیا۔