انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 189

مگر ہر ایک شخص کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ آنے والے دن کی اہمیّت کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔بیرونجات سے آنے والے لوگوں سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو یہ امر سمجھانے کی پوری طرح کوشش کی گئی ہے کہ اصل جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے اور خلیفہ صرف بیعت لینے کے لئے ہے اور تمام راستہ بھر خاص طور پر یہ بات ہر ایک شخص کےذہن نشین کی گئی ہے کہ جماعت اس وقت سخت خطرہ میں ہے۔چند شریر اپنی ذاتی اغراض کو مدِّ نظر رکھ کر یہ سوال اُٹھا رہے ہیں اور جماعت احمدیہ کا ایک خاص جلسہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر کیا اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔اصل جانشین حضرت مسیح موعودؑکی انجمن ہی ہے اوراگر یہ بات نہ رہی تو جماعت خطرہ میں پڑجاوے گی اور سلسلہ تباہ ہوجاوے گا اور سب لوگوں سے دستخط لئے گئے کہ حسبِ فرمان حضرت مسیح موعودؑ جانشین حضرت مسیح موعود ؑکی انجمن ہی ہے۔صرف دو شخص یعنی حکیم محمد حسین صاحب قریشی سیکریٹری انجمن احمدیہ لاہور اوربابو غلام محمد صاحب فورمین ریلوے دفترلاہور نےدستخط کرنے سے انکار کیا۔اورجواب دیا کہ ہم تو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیۃ اللہ رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کا ادب ہم سے زیادہ اس کے دل میں ہے۔جو کچھ وہ کہے گا۔ہم اس کے مطابق عمل کریں گے۔غرض محضر نامہ تیار ہوئے ،لوگوں کو سمجھایا گیا اورخوب تیاری کرکے خواجہ صاحب قادیان پہنچے۔چونکہ دین کا معاملہ تھا اورلوگوں کویقین دلایا گیا تھا کہ اس وقت اگر تم لوگوں کا قدم پھسلا تو بس ہمیشہ کے لئے جماعت تباہ ہوئی۔لوگوں میں سخت جوش تھا۔اوربہت سے لوگ اس کام کے لئے اپنی جان دینے کے لئے بھی تیار تھے اوربعض لوگ صاف کہتے تھے کہ اگر مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) نے خلاف فیصلہ کیا تو ان کو اسی وقت خلافت سے علیحدہ کردیاجاوے گا۔بعض خاموشی سے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے منتظر تھے۔بعض بالمقابل خلافت کی تائید میں جوش دکھا رہے تھےاورخلافت کے قیام کے لئے ہر ایک قربانی پر آمادہ تھے عام طور پر کہا جاسکتا ہے کہ باہر سے آنے والے خواجہ صاحب اوران کے ساتھیوں کی تلقین کے باعث قریباً سب کے سب اورقادیان کے رہنے والوں میں سے ایک حصہ اس امر کی طرف جھک رہا تھا کہ انجمن ہی جانشین ہے۔گو قادیان کے لوگوں کی کثرت خلافت سے وابستگی ظاہر کرتی تھی۔نہایت خطرناک حالت ایسے وہ برادران جو بعد میں سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے ہوں اور جنہوں نے وہ درد اورتکلیف نہیں جو اس سلسلہ کے قیام کیلئے مسیح موعود ؑ نے برداشت کی اور ان حالات کا مطالعہ نہیں کیا جن میں سے گزر کر سلسلہ اس حد