انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 188

انوار العلوم جلد 4 ۱۸۸ آئینه صداقت تو جائے گا ہی۔ مگر ابھی وقت نہیں ابھی نہ جلائیں ایسا نہ ہو کہ بعض کڑیاں بھی ساتھ ہی جل جاویں۔ اس پر وہ اس ارادہ سے باز رہے اور میں اس جگہ سے دوسری طرف چل پڑا۔ تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ مجھے کچھ شور معلوم ہوا ۔ مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر صاحب بے تحاشہ دیا سلائیاں نکال کر جلاتے ہیں اور اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں ۔ مگر اس خیال سے کہ کہیں میں واپس نہ آجاؤں جلدی کرتے ہیں اور جلدی کی وجہ سے دیا سلائی مجھ جاتی ہے ۔ میں اس بات کو دیکھ کر واپس دوڑا کہ ان کو روکوں ۔ مگر پیشتر اس کے کہ وہاں تک پہنچتا ۔ ایک دیا سلائی جل گئی اور اس سے انہوں نے بھوسے کو آگ لگادی میں دوڑ کر آگ میں کود پڑا اور آگ کو بجھا دیا ۔ مگر اس عرصہ میں کہ اس کے بجھانے میں کامیاب ہوتا چند کڑیوں کے سرے جل گئے ۔ میں نے یہ رویا مکہ میں مولوی سید سرور شا شاہ صاحب سے بیان کی انہوں نے مسکرا کر کہا کہ مبارکہ کہ یہ خواب پوری ہو گئی ہے۔ کچھ واقعہ نوں نے بتایا۔ مگر یا تو پوری طرح ان کو معلوم نہ تھا یا وہ اس وقت بتا نہ سکے ہیں نے پھر یہ رویا لکھ کر حضرت خلیفة المسیح کی خدمت میں پیش کی ۔ آپ نے اسے پڑھ کر ایک رقعہ پر لکھ کر مجھے جواب دیا کہ خواب پوری ہوگئی ۔ میر محمد اسحق صاحب نے چند سوال لکھ کر دیئے ہیں جن سے خطرہ ہے کہ شور نہ پڑے اور بعض لوگ فتنہ میں پڑ جائیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے اس فتنہ کا علم ہوا اور وہ بھی ایک خواب کے ذریعہ ۔ اس کے بعد وہ سوالات جو حضرت خلیفہ مسیح نے جواب کے لئے لوگوں کو بھیجنے کا حکم دیا تھا مجھے بھی ملے اور میں نے ان کے متعلق خاص طور پر دعا کرنی شروع کی اور اللہ تعالیٰ سے ان کے جواب کے متعلق ہدایت چاہی ۔ اس میں شک نہیں کہ میں حضرت خلیفہ اول کی بیعت کر چکا تھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ میں خلافت کی ضرورت کا عقلاً قائل تھا۔ مگر باوجود اس کے میں نے اس امر میں بالکل مخلع بالطبع ہو کر غور شروع کیا اور اللہ تعالیٰ سے دُعا میں لگ گیا کہ وہ مجھے حتی کی ہدایت دے شروع اس عرصہ میں وہ تاریخ نزدیک آگئی ۔ جس دن کہ جوابات حضرت خلیفہ المسیح کو دینے تھے۔ میں نے جو کچھ میری سمجھ میں آیا۔ لکھا اور حضرت خلیفہ المسیح کو دے دیا ۔ مگر میری طبیعت سخت بے قرار تھی کہ خدا تعالیٰ خود کوئی ہدایت کرے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ میرے لئے سخت ابتلاء کے دن تھے ۔ دن اور رات غم اور رنج میں گزرتے تھے کہ کہیں میں غلطی کر کے اپنے مولی کو ناراض نہ کر لوں ۔ مگر با وجود سخت کرب اور تڑپ کے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نہ معلوم ہوا ۔ ۳۱ جنوری ۱۹۰۹ء کا معرکتہ الآراء دن حتی کہ وہ رات آگئی جس کی صبح کو جلسہ تھا لوگ چاروں طرف سے جمع ہونے شروع ہوئے۔