انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 187

بات پر اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَاکہنے کے عادی تھے۔صدر انجمن احمدیہ کی خلافت سے مراد درحقیقت مولوی محمد علی صاحب کی خلا فت تھی۔جو اس وقت بوجہ ایک منصوبہ کے اس کے نظم و نسق کے واحد مختار تھے۔بعض ضروری کاموں کی وجہ سے مجھے اس سال جلسہ سالانہ کے تمام لیکچروں میں شامل ہونے کا موقع نہ ملااور جن میں دامل ہونے کا موقع ملا بھ۔ان کے سنتے وقت میری توجہ اس بات کی طرف نہیں پھِری۔مگر جیسا کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے بعض لوگوں نے اج کو تدبیر کو معلوم کرلیا تھا۔اوراب ان کے دوستوں کے حلقوں میں اس امر پر گفتگو شروع ہوگئی تھی کہ خلیفہ کا کیا کام ہے؟ اصل حاکم جماعت کا کون ہے؟ صدر انجمن احمدیہ یا حضرت خلیفۃ المسیح الاول مگر خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے اب بھی اس کا کچھ علم نہ تھا۔اب جماعت میں دو کیمپ ہوگئے تھے۔ایک اس کوشش میں تھا کہ لوگوں کویقین دلایا جاوے کہ حضرت مسیح موعود ؑکی مقرر کردہ جانشین انجمن ہے اور دوسرا اس پر معترض تھا اوربیعت کے اقرار پر قائم تھا۔مگر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے پاس میر محمد اسحٰق صاحب نے کچھ سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں خلافت کے متعلق روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔ان سوالات کو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھیج دیا کہ وہ ان کا جواب دیں۔مولوی محمد علی صاحب نے جو کچھ جواب دیا وہ حضرت خلیفہ اول کو حیرت میں ڈالنے والا تھا۔کیونکہ اس میں خلیفہ کی حیثیت کو ایسا گِرا کر دکھایاگیا تھا کہ سوائے بیعت لینے کے اس کا کوئی تعلق جماعت سے باقی نہ رہتا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اس پر حکم دیا کہ ان سوالوں کی بہت سی نقلیں کرکے جماعت میں تقسیم کی جاویں۔اورلوگوں سے ان کے جواب طلب کئے جاویں اورایک خاص تاریخ (۳۱ ؍جنوری ۱۹۰۹ء) مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے قائم مقام جمع ہوجاویں تا کہ سب سے مشورہ لیا جاوے۔اس وقت تک بھی مجھے اس فتنہ کا علم نہ تھا۔حتیّٰ کہ مجھے ایک رؤیا ہوئی جسکا مضمون حسب ذیل ہے۔فتنہ کی اطلاع بذریعہ رؤیا میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے۔اس کے دو حصے ہیں۔ایک حصّہ تو مکمل ہے اور دوسرا نامکمل۔نامکمل حصہ پر چھت پڑ رہی ہے کڑیاں رکھی جاچیکی ہیں مگر اوپر تختیاں نہیں رکھی گئیں۔اورنہ مٹی ڈالی گئی ہے۔ان کڑیوں پر کچھ بھوسا پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد اسحٰق صاحب میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب اورایک اورلڑکا جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا رشتہ دار تھا اور جس کا نام نثار احمد تھا اورجواب فوت ہوچکا ہے (اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت کرے) کھڑے ہیں۔میر محمد اسحٰق صاحب کے ہاتھ میں دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہے۔اور وہ اس میں سے دیا سلائی نکال کر اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں۔مَیں نے ان سے کہا کہ آخر یہ بھوسا جلایا