انوارالعلوم (جلد 6) — Page 177
ہےکہ یہ ایک بہانہ ہے جو ان لوگوں نےہم سےجدائی کیلئے بنایا ہے۔اگر واقع میں دیکھاجائے تو میرے مبائعین ان سے بہت زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔بہ نسبت اس کے جوان کے ہمراہی مبائعین سے رکھتے ہیں۔ہر سال ان کے جلسہ پر ہمارے کچھ نہ کچھ آدمی جاتےہیں۔مگر ان کے آدمی سوائے اس سال کے کہ خاص طور پر مدعو کئے جانے پر چند آدمی آئے تھے کبھی نہیں آئے بلکہ جب کوئی ہمارا آڈمی چلا جاوے تو اس کی سخت ہتک کی جاتی ہے اور ذلیل کیا جاتا ہے۔چنانچہ ایک دوست میاں عبدالعزیز صاحب اوورسیئر کا خط چند دن ہی ہوئے مجھے ملا ہے کہ میں ان لوگوں کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس اُترنے بھی نہیں دیا۔غرض ان لوگوں کی سختی میرے احباب سےاس قدر بڑھی ہوئی ہے اورپھر دھوکا دہی اس قدر ترقی کر گئی ہوئی ہے کہ ان لوگوں کے پاس جاکر ہمارے احباب کی عزتیں معرض خطر میں ہوتی ہیں اور سوائے ایسے لوگوں کے کہ جن سے انہیں امید ہو کہ شاید ہم میں مل جاویں یا صاحب ثروت لوگ ہوں کہ ان سے کچھ فائدہ اُٹھانا چاہیں دوسروں کو یہ لوگ منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے۔کتابوں کے متعلق بھی اگر دیکھا جاوے تو میری جماعت میں ایسے لوگ ملیں گے جنہوں نے ان کی کتابیںپڑھی ہیں بہ نسبت مولوی صاحب کے ایسے ہم خیال لوگوں کے جنہوں نے میری کتب پڑھی ہیں۔مولوی محمد علی صاحب کے اعتراض کا ایک اور طریق سے دفعیہ آخر میں مَیں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت کہ میں یہ حصہ مضمون لکھ رہا ہوں۔مولوی صاحب کا یہ اعتراض کہ ان کے مُرید اس لئے دھوکے میں پھنسے ہوئے ہیں کہ یہ ان کو ہماری باتیں سننے نہیں دیتے،ایک اورطرح بھی دُور کردیا گیا ہے اوربالکل بے حقیقت اورجھوٹا ہوگیا ہے اور وہ اس طرح کہ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوںاس جلسہ پر یعنی ۱۹۱۸ء کےجلسہ سالانہ پر بوجہ میری بیماری کے دسمبر ۱۹۱۸ء سے ملتوی کرکے مارچ۱۹۱۹ء کو کیا گیا تھا۔میری طرف سے خاص طور پر غیر مبائعین کو بلوایا گیا تھا۔چنانچہ تیس کےقریب ان کےچیدہ آدمی آئے جنہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ ان کو بولنے کا وقت دیاجائے چونکہ یہ لوگ مدعوتھے یہ خیال کرکے کہ وہ ہمارے مہمان ہیں مَیںنے ان کی درخواست کو قبول کرلیا اورانہیں کہا کہ وہ اپنے میں سے ایک آدمی مقرر کریں جو ان کے خیالات کو حاضرین جلسہ کے سامنے بیان کرے اوراتنے وقت کیلئے بول سکے جس قدر وقت کہ انہوں نے ہمارے آدمی کو اپنے جلسے میں بولنے کے لئے دیا