انوارالعلوم (جلد 6) — Page 173
انوار العلوم جلد 4 ۱۷۳ آمینه صداقت کے کھولوں گا ۔ یہ قول تو اس کا ایک ادنی ہے ۔ اس کا تو وہی حال ہے جو فرعون کا تھا ۔۔۔ اگر بالآخر توبہ نہ کی تو غرق طوفان ضلالت میں ہو جاوے گا ۔ آئین " مورخه ۱ار فروری شاه ) مولوی سید محمد احسن صاحب کے ان دونوں خطوط سے ثابت ہوتا ہے کہ سید صاحب نے رسالہ القول الفصل کو بغور شروع سے آخر تک سنا ۔ اور اس کے مضمون کو صادقہ اور مصدوقہ پایا۔ یعنی وہ مضامین پیتے بھی ہیں اور خدا تعالیٰ اور اس کے راست باز بندوں کی طرف سے ان کی صداقت ثابت بھی کی گئی ہے ۔ اور یہ کہ اس کتاب کے سننے سے آپ اس قدر خوش ہوئے کہ آپ کو اپنی بیماری بھی بھول گئی ۔ اور آپ نے اس کو سن کر مجھے میں وہ بات پالی جس کے آپ سالہا سال سے منتظر تھے اس سے آپ کا اشارہ میرے موعود بیٹا ہونے کی طرف ہے جس کا ذکر آپ اکثر خطبات و گفتگو میں فرمایا کرتے تھے اور اس کتاب کو بُرا کہنے والے کو آل فرعون اور فرعون اور طوفان ضلالت میں غرق ہونے والا قرار دیا۔ پس اس قدر تائید اور اتفاق کے بعد جو ان مسائل سے سید صاحب ظاہر فرما چکے ہیں۔ انہی مسائل کی بناء پر وہ کس طرح بیعت توڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں ۔ ایسی بات تو کسی عقلمند کی طرف منسوب نہیں کی جا سکتی۔ ضرور ہے کہ حقیقت کچھ اور ہو۔ اور یا تو مولوی صاحب کو دھوکا دیا گیا ہو یا فریب سے ان کی طرف وہ باتیں منسوب کر دی گئی ہوں ۔ جو انہوں نے نہ کی ہوں بیس یہ کہنا کہ سب سے پرانے اور سب سے عالم صحابی مسیح موعود نے میرے عقائد کے خلاف لکھا ہے ۔ درست نہیں۔ کیونکہ ان مسائل کی اس قدر تائید کے بعد سید صاحب کا ان کو مسائل کفریہ قرار دینا کسی عقلمند کی سمجھ میں نہیں آسکتار مسئلہ مفیر غیر احمد یاں کے متعلق جو میرا مضمون تشجیہ الا ذبان میں شائع ہو چکا ہے ۔ اس کی تائید میں مولوی صاحب کا ایک اور خط بھی ہے جس میں سے اقتباس ذیل اُمید ہے کہ حق پسند لوگوں کے لئے مفید ہو گا مولوی صاحب میرے اس مضمون کے متعلق تحریر فرماتے ہیں :- " میری رائے ناقص میں کفر و کافر کی بحث میں آپ نے تبلیغ کامل کر دی ہے۔ اب اس بحث کی طرف بالکل توجہ نہ فرماویں۔ لا يَضُتُركُم مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة : ١٠٩) یہ خط میرے مضمون متعلق تکفیر احمدیاں کے متعلق ہے۔ جو اپریل سنہ میں شائع ہوا اور یہ خط ستمبر ہ کو مولوی صاحب نے میرے نام اپنے وطن امروہہ سے لکھا ۔ 191