انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 171

کی وجہ سے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موعود بیٹا قرار دیا ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب جب ۱۹۱۴؁ء کے آخر میں ولایت سے واپس آئے تو انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء کے جلسہ منعقدہ لاہور میں ایک تقریر کی اور چھپوا کر کثرت سے شائع کی۔اس کا جواب مَیں نے ’’القول الفصل ‘‘ میں دیا۔اس رسالہ میں مَیں نے ان تینوں مسئلوں یعنی نبوت حضرت مسیح موعود ؑو کفر غیر احمدیاں اور پیشگوئی اسمہٗ احمد پر بحث کی ہے۔چنانچہ ان تینوں مسئلوں کےمتعلق میں اس رسالہ میں سے چند فقرات اس جگہ نقل کرتا ہوں۔نبوت حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق لکھا ہے:- ’’اگر کوئی شخص حقیقی نبی کے یہ معنے کرے کہ وہ نبی جو بناوٹی یا نقلی نہ ہو۔بلکہ درحقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنوں کے رو سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو، تمام کمالات نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعودؑ حقیقی نبی تھے۔گو ان معنوں کی رو سے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے حقیقی نبی نہ تھے‘‘۔’’ ہمارے اعتقاد کے مطابق مسیح موعود کی ظلی اوربروزی نبوت کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ آپ کو نبوت آنحضرت ﷺکی شاگردی اوراطاعت میں ملی ہے اور پہلے نبیوں کو براہ راست نبوت ملتی تھی۔اور اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ آپ کی نبوت کوئی آنریری خطاب تھا جس کی کوئی اصل یا حقیقت نہیں اور جس نبوت سے وہ حقوق حاصل نہیں جو نبیوں کو حاصل ہوتے ہیں۔‘‘ (القول الفصل صفحہ ۱۸مطبوعہ قادیان جنوری ۱۹۱۵) اس رسالہ میں صفحہ ۲سے لے کر صفحہ ۲۶ تک نبوت کےمسئلہ پر بحث ہے اور اس کے سب پہلوؤں پر مختصراً روشنی ڈالی گئی ہے اور کوئی ایسی بات نہیں جو بیان کرنے سے رہ گئی ہو۔اس سے آگے صفحہ ۲۷ سے لے کر صفحہ ۳۲ تک اسمہٗ احمد کی پیشگوئی کے متعلق بحث ہے۔اور اس میں سے بعض فقرات یہ ہیں:- ’’حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیشگوئی کا میں ہی ہوں۔کیونکہ یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے۔اور آنحضرت ﷺاحمدؐاور محمدؐ دونوں تھے۔‘‘ (القول الفصل صفحہ ۲۷مطبوعہ قادیان جنوری ۱۹۱۵؁ء)