انوارالعلوم (جلد 6) — Page 171
انوار العلوم جلد 1 141 آئینہ صداقت کی وجہ سے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موعود بیٹا قرار دیا ہے ۔ خواجہ کمال الدین صاحب جب ۹۱لہ کے آخر میں ولایت سے واپس آئے تو انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء کے جلسہ جلسہ منعقدہ لاہور میں ایک تقریر کی اور چھپوا کر کثرت سے شائع کی۔ اس کا جواب میں نے " القول الفصل" میں دیا ۔ اس رسالہ میں میں نے ان تینوں مسئلوں یعنی نبوت حضرت مسیح موعود کفر غیر احمد یاں اور پیشگوئی اسمہ احمد پر بحث کی ہے ۔ چنانچہ ان تینوں مسئلوں کے متعلق میں اس رسالہ میں سے چند فقرات اس جگہ نقل کرتا ہوں ۔ نبوت حضرت مسیح موعود کے متعلق لکھا ہے :۔ " اگر کوئی شخص حقیقی نبی کے یہ معنے کرے کہ وہ نہیں جو بناوٹی یا نقلی نہ ہو ۔ بلکہ در حقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنوں کے رو سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو، تمام کمالات نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد یک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔ گو ان معنوں کی رو سے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے حقیقی نبی نہ تھے " هواء القول الفصل صفحه ۱۲ مطبوعہ قادیان جنوری ) ہمارے اعتقاد کے مطابق مسیح موعود کی ظلی اور بروزی نبوت کے صرف اس قدر معنے ہیں کہ آپ کو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور اطاعت میں ملی ہے اور پہلے نبیوں کو براہ راست نبوت ملی تھی ۔ اور اس کے ہرگز یہ معنے نہیں کہ آپ کی نبوت کوئی آنریری خطاب تھا جس کی کوئی اصل یا حقیقت نہیں۔ اور جس نبوت سے وہ حقوق حاصل نہیں جو نبیوں کو حاصل ہوتے ہیں " القول الفصل صدا مطبوعہ قادیان جنوری ۱۹۱۵ء) اس رسالہ میں صفحہ ۲ سے لے کر صفحہ ۲۶ تک نبوت کے مسئلہ پر بحث ہے اور اس کے سب پہلوؤں پر مختصراً روشنی ڈالی گئی ہے ہے اور اور کوئی ایسی بات نہیں جو بیان کرنے سے سے رہ رہ گئی گئی ہو۔ ہو۔ اس ۔ سے آگے صفحہ ۲۷ سے لے کر صفحہ ۳۲ تک اسمۂ احمد کی پیشگوئی کے متعلق بحث ہے۔ اور اس میں سے بعض فقرات یہ ہیں :- " حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیشگوئی کا میں ہی ہوں ۔ کیونکہ یہاں رآیہ اسمہ احمد واقعہ سورہ صف میں صرف احمد کی پیشنگوئی ہے اور انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احمد اور محمد دونوں تھے " (القول الفصل صفحه ۲۷ مطبوعہ قادیان جوری شالداء )