انوارالعلوم (جلد 6) — Page 170
انوار العلوم جلد 4 160 آئینه صداقت صالح عظیم الشان پیدا ہو گا چنانچہ حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجود ہیں منجملہ ذریت طیبہ کے اس تھوڑی سی عمر میں جو خطبہ انہوں نے چند آیات قرآنی کی تفسیر میں بیان فرمایا اور سنایا ہے اور جس قدر معارف اور حقائق بیان کئے ہیں وہ بے نظیر ہیں ۔ اب کوئی انہیں معمولی سمجھے اور کہے یہ تو کل کے بچے ہیں ابھی ہمارے ہاتھوں میں پہلے ہیں اور کھیلتے کودتے پھرتے تھے تو یاد رہے کہ یہ فرعونی خیالات ہیں ۔ چنانچہ فرعون نے بھی حضرت موسی سے یہی کہا تھا : - اَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيْدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ (الشعراء (۱۹) میرے بھائیو ! اگر ایسا خیال کسی کے دل میں آئے تو استغفار پڑھے۔ کیونکہ فرعون کا برا انجام ہوا ۔ (اخبار بدر ۲۶ جنوری ۱۹۱۱، جلد: انمبر ۱۳ صفحه ۲) پس یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ مولوی سید محمد احسن صاحب کو میرے عقائد کا علم نہ تھا ۔ ان کو میرے عقائد کا علم تھا اور ضرور تھا۔ بیس پہلے اپنی عقائد کے ہوتے ہوئے ان کا میری بیعت کرنا اور پھر انہی عقائد کی بناء پر اس بیعت کو توڑنا کیونکر قابل تسلیم ہو سکتا ہے ۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ نبوت حضرت مسیح موعود کے متعلق ہمارا عقیدہ وہی ہے جو تشحید الاذہان میں مولوی سید محمد حسن صاحب نے تحریر فرمایا ہے اور صرف نام میں اختلاف ہے ۔ اسمه احمد کی بحث اور مولوی محمد احسن صاحب کا عدم انکار تیرا عقیدہ جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ یہ نیا بنایا گیا ہے ۔ اسمہ احمد کا مصداق حضرت مسیح موعود کو قرار دینا ہے ۔ یہ عقیدہ بھی غلط ہو یا درست مگر مولوی سید محمد احسن صاحب کے فسخ بیعت سے بہت پہلے شائع ہو چکا ہے اور اس کے بعد وہ برا بر مجھ سے تعلق رکھتے رہے ہیں ۔ حضرت خلیفتہ امیج کی زندگی میں میں نے ایک مضمون اسم احمد والی پیشگوئی میں تحریر کیا تھا مگر آپ کو دکھانے کا موقع نہ ملا۔ وہ شروع ایام خلافت میں ہی مکرمی قاضی محمد ظہور الدین صاحب امل نے رساله تشخیذ الاذہان میں شائع کر دیا تھا اور اس کے دو سال بعد مولوی صاحب نے بیعت کے توڑنے کا اعلان کیا ہے اور اس عرصہ میں برابر میری تائید اور مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کی تردید کرتے رہے ہیں پس یہ عقیدہ بھی اصل بناء نہیں ہو سکتا ۔ حب مجھ سے عقائد میں موافقت رکھنے پر میں اس مضمون کے ختم ہونے سے۔ پہلے مولوی صفا سید محمد حسن صاحب کی تحریری شاری یاری امارات میں اس امر کے کی طرف سے تحریری اس ہوں کہ مولوی سید محمد حسن صاحب نے ان تینوں عقائد کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ اور ان کے منکروں کو فرعون وغیرہ کہا ہے بلکہ ان کی شات ستمبر ۱۹۱۴، جلد ۹ نمبر ۹ صفحه ۱ تا ۱۹ بعنوان " احمد علیہ السلام "