انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 155

انوار العلوم جلد و ۱۵۵ آئیز صداقت فتویٰ کے۔ چنانچہ اس امر کو اس واقعہ سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت خلیفہ پیچ سے غیر احمدیوں کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی اجازت منگوائی ۔ آپ نے اسے اجازت دے دی ۔ اس پر اس کے بڑے بھائی نے بھی خط لکھا کہ مجھے بھی اجازت دی جاوے۔ اس کے جواب میں حضور نے لکھوایا کہ پہلے اپنے چھوٹے بھائی جیسے ہو جاؤ ۔ پھر تم کو بھی اجازت دے دوں گا ۔ وہ تو نماز بھی نہیں پڑھتا ۔ اگر اس طرح اسے نماز کی عادت پڑ جائے تو ہمارا کیا حرج ہے ۔ اس جواب سے۔ بلکہ خود بڑے بھائی کے خط سے ظاہر ہے کہ جس شخص کو نماز کی اجازت دی تھی ۔ وہ بطور فتوی نہ تھی بلکہ شخصی مصلحت کے ماتحت ایک اجازت تھی۔ اسی طرح خواجہ صاحب کی کمزوری کو دیکھ کر اور یہ دیکھ کر کہ ان کو ابتلاء نہ آجائے ۔ اگر حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ان کو اجازت نماز دی تو یہ کوئی فتوی نہ تھا بلکہ ایک شخصی فیصلہ تھا۔ باقی رہ یہ امرکہ میں نے اس کا انکار کر دیا یہ ایک بے ثبوت بات ہے جب فیصلہ ہی کوئی نہ تھا تو پھر اس کا رد کرنا کیسا ۔ اور جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے فیصلہ کے مقابلہ میں کسی کا فیصلہ حجت نہیں۔ تو پھر رد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ اگر ایسا فتویٰ آپ دے بھی دیتے تو اس اصل کے ماتحت وہ اس قابل نہ ہوتا کہ اسے اپنے معتقدات میں شامل کر لیا جاوے ۔ سفرحج میں میری نماز کے متعلق مولوی صاحب نے جو الزام لگایا ہے کہ میں نے مکہ میں غیر احمدیوں کے پیچھے حضرت خلیفہ المسیح کے مولوی محمد علی صاحب کی دھوکا دہی ایک فتوی کے ماتحت نماز پڑھی۔ یہ ایک دھوکا ہے جس کے پھیلانے سے باوجود واقعات کے علم کے وہ باز نہیں آتے ۔ اصل واقعہ یہ ہے :- ن علم با لہ میں ہیں اور سید عبدالحی صاحب عرب مصر سے ہوتے ہوئے حج کو گئے ۔ قادیان سے میرے نانا صاحب میر ناصر نواب صاحب بھی براہ راست حج کو گئے ۔ جدہ میں ہم مل گئے اور مکہ مکرمہ اکٹھے گئے ۔ پہلے ہی دن طواف کے وقت مغرب کی نماز کا وقت آگیا۔ میں ہٹنے لگا۔ مگر راستے رک ہلے ہی دن طواف کے وقت مغرب کی نماز کا وقت آگیا گئے تھے نماز شروع ہو گئی تھی۔ نانا صاحب جناب میر صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ امسیح کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے اس پر میں نے نماز شروع کر دی ۔ پھراسی جگہ نہیں عشاء کا وقت آگیا وہ نماز بھی ادا کی۔ گھر جاکر میں نے عبدالحی صاحب عرب سے کہا کہ وہ نمازہ تو حضرت خلیفتہ امیج کے حکم کی تھی اب آؤ۔ خدا تعالی کی نماز پڑھ لیں جو غیر احمدیوں کے پیچھے نہیں ہوتی اور ہے وہ دونوں نمازیں دہرا لیں ۔ ایک نمازہ شاید دوسرے دن ادا کی مگر میں نے دیکھا کہ باوجود نمازیں تن