انوارالعلوم (جلد 6) — Page 154
انوار العلوم جلد 4 اوله آئینہ صداقت خواجہ صاحب پہلے سے ہی اس قسم کے بہانے تلاش کر رہے تھے ۔ ان کے اس خط کے جواب میں حضرت خلیفہ اول نے کہ دیا کہ وہ ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ جسے فوراً بذریعہ تاران کے دوستوں نے ان تک پہنچا دیا اور خواجہ صاحب نے اس اجازت سے فائدہ اُٹھا کر سلسلہ کے اشد مخالف ظفر علی خان ایڈیٹر زمیندار کی اقتداء میں نماز ادا کر کے ہمیشہ کے لئے اپنے ایمان کا خون کیا ۔ یہ اجازت فتوی نہیں کہلا سکتی۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود کے صریح فتویٰ کے خلاف حضرت خلیفہ اول یا کوئی اور شخص فتوی دینے کا مجاز نہیں ۔ ہمارا ہادی اور رہنما مسیح موعود ہے ۔ اس کے سوا کوئی ہو وہ بطور خود فتویٰ دینے کا مجاز نہیں۔ خلیفہ اول کون تھے ؟ مرزا صاحب کے ایک مرید تھے اور ان کے ہاتھ پر پاک چکے تھے جس طرح ہم سب غلام ہیں وہ بھی ایک غلام تھے ۔ ان کو اس سے زیادہ کبھی کوئی دعوی نہیں ہوا۔ وہ خود تحریر فرماتے ہیں : میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر علان کرتا ہوں کہ میں مرزا صاحب کے تمام دعاوی کو دل سے مانتا اور یقین کرتا ہوں اور ان کے معتقدات کو نجات کا مدار ماننا میرا ایمان ہے۔ نور الدین سے پھر فرماتے ہیں :۔ سنو تمہاری نزامین تین قسم کی ہیں۔ اول ان امور اور مسائل کے متعلق ہیں۔ جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے ۔ جو حضرت صاحب کے فیصلہ کے خلاف کرتا ہے ۔ وہ احمدی نہیں۔ جن پر حضرت صاحب نے گفت گو نہیں کی۔ ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں۔ جب تک ہمارے دربار سے تم کو اجازت نہ ملے پس جب خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا۔ ان پر رائے زنی نہ کرو و تقریر لاہورہ الحکم ۲۱ ۲۸۰ جون ۱۹۱۲ نه جلد ۲۰۱۶ ) حضرت خلیفہ ایچ کے ان الفاظ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کے مندرجہ ذیل فتوئی المسیح کو ملا کر پڑھو۔ اور دیکھو کہ کیا یہ وہم بھی کیا جا سکتا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح غیر احمدی کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا فتویٰ دیں گے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :۔ پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے ۔ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی کفر اور مہذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو " (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۸، روحانی خزائن جلد ، اصل حاشیہ ) حضرت خلیفہ المسیح نے جو کچھ خواجہ صاحب کو تحریر کیا۔ وہ ان کی شخصی حالت کے لحاظ سے تھا نہ بطور تشجيد الاذهان اگست شود۔ جلد ۳ نمبر ۸ صفحه ۳۳۸