انوارالعلوم (جلد 6) — Page 152
جو مرزا صاحبؑ کو نہیں مانتا وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتا۔خواجہ کمال الدین صاحب کے غیر معقول خلاصہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے دستخط کرنے کی وجہ اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے جو غیر معقول خلاصہ اس کا دیا تھا۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح نے کیونکر دستخط کر دئیے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ واقعات مندرجہ بالا کی موجودگی میں خواجہ صاحب کے اشتہار پر حضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت سے یہ تو ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ میرے مضمون کو رد کردیا گیا۔کیونکہ اس کے متعلق خود آپ کی قلمی اجازت اوراصلاح موجود ہے نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا مضمون آپ نے غلط سمجھا۔کیونکہ ایک سکول کا طابعلم بھی اس سے وہمطلب نہیں لے سکتا جو خواجہ صاحب نے نکالا ہے۔پس ان دونوں باتوں کے ناممکن ہونےکے بعد کونسی صورت رہ جاتی ہےجسے اختیار کیا جاسکتا ہے۔یہی کہ یا تو حضرت خلیفۃ المسیح نے خواجہ صاحب کے اشتہار کو پڑھا ہی نہیںَ اوران سے زبانی سن کر اس کی اشاعت کی اجازت لکھ دی۔یا یہ کہ خواجہ صاحب کے اس بےمعنی مضمون کا جس میں انہوں نے پیچدار عبارتوں سے میرے مضمون کو آڑانا چاہا تھا انہوں نے کچھ اور ملطب سمجھا۔خواجہ صاحب کا اشتہار بلکہ اس کا وہ خلاصہ بھی جو مولوی محمد علی صاحب نے دیا ہے۔بتا رہا ہے کہ کواجہ صاحب نے پیچدار عبارت سے کام لینا چاہا ہے۔ورنہ وہ صاف طور پر اعلان کرتےکہ غیر احمدی مسلمان ہیں۔میری زندگی میں میرے مضمون کے معنے کرنے کا ان کو کیا حق تھا۔اگر اس کے متعلق کوئی غلط فہمی تھی تو وہ مجھ سے دریافت کرسکتے تھے۔ان کا اس طریق کو اختیار کرنا ہی بتاتا ہے کہ وہ دھوکا دینا چاہتے تھے۔اور اسی لئے انہوں نے پیچدار عبارت تحریر کی۔جس کواگر حضرت خلیفۃ المسیح نے پڑھ کر اجازت اشاعت دی تو ضرور ا س کا کچھ اور مطلب سمجھا ہے چنانچہ اس کا ثبوت بھی ملتا ہے اور وہ یہ کہ جب خواجہ صاحب کا اشتہار شائع ہوا ہے۔تولوگوں میں شور پڑا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کبھی کچھ کہہ دیتے ہیں کبھی کچھ۔ایک طرف میرے مضمون پر آپ نے دستخط کردئیے تو دوسری طرف خواجہ صاحب کے مضمون پر۔اور کسی شخص نے یہ امر خود آپ کے سامنے بھی پیش کیا۔مَیں اس وقت پاس بیٹھا تھا۔آپ نے فرمایا کوئی اختلاف نہیں۔مَیں نے خواجہ صاحب کے اشتہار پر اس لئے اجازت تحریر کی تھی کہ خواجہ نے مجھے بتایا تھا کہ مجھے میاں صاحب کے مضمون سے کوئی اختلاف نہیں۔یہ اشتہار صرف اس لئے لکھا گیا ہے کہ ہزاروں احمدی جو سرحد پر ہیں ان کو مخالف لوگ قتل نہ کردیں۔پس ان کے جوشوں کو دبانے کیلئے مطلب کو ایسے الفاظ میں پیش کردیا ہے