انوارالعلوم (جلد 6) — Page 144
انوار العلوم جلد 4 ។ ۱۴۴ آئینه صداقت حضرت مسیح موعود جبری اللہ فی حلل الانبیاء متأخر نبی ہیں۔ متأخر پر جو متقدم کا اطلاق کیا جائے جیسا کہ اکثر الهامات میں وارد ہے ۔ جیسا کہ هُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ (الصف : ۱۰) تو مجاز ہوگا۔ یہ ہیں معنے مجاز کے علیٰ ہذا القیاس نبوت جزوی اور علی کو بھی وہ نہیں سمجھا۔ خاکسار نے تو شستہ ضروریہ میں لکھ دیا ہے کہ " اس صورت میں اگر اصل وظل میں تساوی بھی ہو تو کچھ حرج نہیں ۔ کیونکہ افضلیت بسبب اصلیت پھر بھی ادھر ہی رہے گی ۔ پس یہ میں خلیت کے معنے ۔ اور نہ وہ جزوی کے معنے سمجھا ہے۔ کیونکہ محکم حدیث متفق علیہ لَم يبقَ مِنَ الـ النبوة إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ (صحیح بخاری کتاب التعبير باب المبشرات ، چونکہ حضرت جری اللہ شریعت جدیدہ سوائے شریعیت دین اسلام کے اور سوائے قرآن شریف کے کوئی شریعت اور کوئی کتاب اللہ ناسخ شریعیت و قرآن نہیں لائے ۔ اس لئے آپ جزوی نبی ہوئے " اسی طرح ذیل میں مولوی صاحب موصوف کے رسالہ استہ نہ صاحب موصوف کے رسالہ ستہ ضروریہ سے چند فقرات نقل کئے جاتے ہیں۔ سے نبوة في سے: جن میں انہوں نے علی رغم رَغْمِ الْفِ مُنْكِرِى النُّبُوَّةِ النَّبُوَّةِ الْأَحْمَدِيَّةِ - آیت خاتم البین سے نہ خير الامة كو ثابت کرتے ہوئے بڑے زور سے محمد علی صاحب والے خیالات کی تردید کی ہے ۔ آپ رسالہ مذکورہ میں لکھتے ہیں ۔ لفظ رسول اور نبی کے معنوں میں علماء کرام کا بہت اختلاف ہے۔ مگر ان اقوال مختلفہ میں سے اگر ہم اس قول کو اختیار کریں۔ جو تفسیر کبیر یں بھی لکھا ہوا ہے ۔ تو کون سا محذور لازم آتا ہے ۔ اور وہ قول یہ ہے کہ :- إِنَّ الرَّسُولَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَنْ جَمَعَ إِلَى الْمُعْجِزَةِ الكِتَابَ الْمُنَزَّلَ عَلَيْهِ وَ النَّبِيَّ غَيْرُ الرَّسُولِ مَنْ لَمْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ كِتَابٌ وَإِنَّمَا أَمَرَ أَنَ يَدْعُو إِلَى كِتَابٍ من قبله تغیر کبیر هام رازی جلد ۲۳ ۳۵ زیر آیت وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رسول المطبع بار دوم ) پس اگر ثابت ہو جائے کہ ان معنوں کے اعتبار سے حضرت مسیح موعود نبی ہوں ۔ اور رسول نہ ہوں اور جس جگہ پر لفظ رسول بھی مستعمل ہوا ہے ۔ اس سے مراد بھی یہی معنے ہیں تو ہم پر کیا اعتراض وارد اور نیز لکھتے ہیں۔ نیر کی امام رازی بلد بر امام رازی جلد ۱۲۳ زیر آیت وَمَا أَرْسانَا مِن قَبْلِكَ مِنْ رَسُول الخطيع بار دوم ) اس آیت (وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبتين (الاحزاب : ۳۱) کے وہ معنی ہونے چاہئیں جس میں مراد الہی سے انحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی ثناء اور مرح پیدا ہو دے پس اب وہ معنے اور مراد خاتم النبین کے بیان کرنے باقی رہے کہ وہ کیا ہیں ؟ وہ یہ ہیں کہ آپ کی بعثت کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا کہ کوئی نیا حکم شریعیت کا ایسا لا دے جو کتاب اللہ اور سنت صحیحہ میں موجود نہ ہو یا نعوذ باللہ کسی حکم منصوص اسلامی کو منسوخ کر دیوے (صفحہ ۵۹) ۔ ہو سکتا ہے ۔ (صفحہ ۶۷) اور نہ سته ضروری تقریب مباحثه رامپوری مطبوعه امر و به شانه