انوارالعلوم (جلد 6) — Page 140
انوار العلوم جلد 4 ۱۰ آئینہ صداقت نے اپریل اللہ کو پھر ایک ٹریکیٹ شائع کیا جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اس نے جو نیا کلمہ بنایا ہے تو کوئی غلطی نہیں کی اور یہ کہ اس پر اسے جماعت سے الگ کیا گیا۔ گو ظاہر یہ کیا گیا تھا کہ اس نے خلافت کا دعویٰ کیا ہے مگر اصل باعث وہی اس کے عقائد تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ظہیر نے اپریل سالانہ میں پھر ایک ٹریکیٹ شائع کیا۔ مگر جہانتک مجھے معلوم ہے ۔ اس کے جماعت سے نکالے جانے کے متعلق کوئی اعلان نہیں ہوا کیونکہ جو کچھ اس نے اس ٹریکٹ میں لکھا تھا ۔ وہ اسلام سے اس قدر دور تھا کہ احمدی جماعت کے امام یا دیگر اہل علم لوگوں نے اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ اس کو جماعت سے نکالیں۔ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا کلمہ بنا دے۔ وہ اپنے اسی فعل سے جماعت سے نکل جاتا ہے ۔ اس کے جماعت سے نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اسی سبب سے میرے نزدیک کوئی اعلان اس کے خلاف نہیں کیا گیا۔ پس یہ غلط ہے کہ جماعت احمدیہ یا اس کے امام کی طرف سے یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ظہیر خلافت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ظہیر مولوی محمد علی صاحب کی طرح خلافت کا قائل ہی نہیں اس لئے وہ خلافت کا دعوی ہی نہیں کر سکتا وہ تو مصلح موعود ہونے کا مدعی ہے ۔ اور اس کا دعوی ہے کہ جماعت کا امام رہی ہو سکتا ہے جسے الہام سے یا رویا سے یا کسی پیشگوئی کے ماتحت مقرر کیا جاوے ۔ پس نہ جماعت احمدیہ نے اس پر خلافت کے مدعی ہونے کا الزام لگا یا نہ اس وجہ سے اس کو جماعت سے خارج کرنے کا اظہار کیا ۔ اگر عملاً اس سے قطع تعلق کیا گیا تو صرف اس کے نئے عقائد کی وجہ سے ۔ جیسے جدید کلمہ کا بنانا ، نماز قادیان کی طرف منہ کر کے پڑھ لینا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شریعت والا نبی قرار دینا ، حضرت خلیفہ المسیح کی خلافت کا انکار اور آپ پر قسم قسم کے اتہامات لگانا وغیرہ ۔ اس کی ان تحریرات پر جہاں تک مجھے معلوم ہے اگر تحریر میں کسی نے نوٹس لیا ہے تو میر قاسم علی صاحب نے جنہوں نے اپنے اخبار الحی میں جو اس وقت دہی میں شائع ہوتا تھا اس کے متعلق ان الفاظ میں اظہار کیا ہے ۔ " مجھے ظہیر بلوں کو پڑھ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی۔ افسوس اس لئے کہ مولوی صاحب موصوف ترکستان کو جا رہے ہیں ۔ اور اس کو کعبہ کا راہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ اور حیرت اس لئے کہ ان میں کوئی علمی بات یا مفید معلومات تائید سلسلہ یا اسلام کی تائید نہیں ہوتی یا ہوتی ہے تو کم سے کم میرے فہم و علم سے بالا تر ہوتی ہے۔ جس سے میں مستفید نہیں ہو سکتا ؟ اسی طرح لکھا ہے ۔ تمام اہل قلم احباب سلسلہ کی خدمت میں دست بستہ عرض کروں کہ ظہیر بلوں کی طرف اسی قدر توجہ فرما دیں جس قدر کہ عبداللہ اور یار محمد کی طرف