انوارالعلوم (جلد 6) — Page 138
انوار العلوم جلد 4 ۱۳۸ آئینه صداقت سے خارج کرنا پڑا ہے ۔ جو کچھ تعریف اس کتاب کی ہمارے رسالہ میں شائع ہوئی ہے وہ غلطی سے کی گئی ہے اس سے کوئی شخص دھوکا نہ کھا اوے۔ ظہیر کی معافی اور توبہ کے اعلان میں الحکم کا اسکے رسالہ ہی اللہ ریویو آف ریلیجنز کا میں اس کتاب پر ظور کی تعریف کرنا اور اس سلسلہ کی بہت بڑی خدمت بتانا ترین کو یوں تجھے تعریفی ریویو نکلنے کے علاوہ ایک اور زبردست ثبوت مولوی محمد علی صاحب کے دعوی کے بطلان میں یہ ہے کہ ظہیر الدین کی جماعت اعت سے اخراج اور پھر اس کی معانی کے تمام واقعات حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی زندگی میں سلسلہ کے سب سے پہلے اخبار الحکم میں تفصیل شائع ہوئے ہیں۔ خود اسی مضمون میں اس کتاب کی تعریف بھی ہوئی ہے۔ یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ ظہیر الدین کی معافی کا اعلان کرتے وقت الحکم اسی کتاب کی تعریف کرتا جس کی اشاعت کی وجہ سے ظہیر الدین کو خارج از جماعت کیا گیا تھا اور اسے معافی مانگنی پڑی تھی۔ کیا جرم میں خود ایڈیٹر الحکم کو حضرت خلیفہ السیح جماعت سے نہ نکال دیتے کیا یہ ممکن تھا کہ ادھر تو ایڈیٹر الحکم یہ لکھتا کہ ظہیر الدین سے قصور ہو گیا تھا ۔ اب وہ معافی مانگتا اور پریشان ہوتا ہے اور ساتھ ہی وہی قصور خود کرتا اور اس زہریلی کتاب کی تعریف کرتا ۔ ہر ایک شخص الحکم کے الفاظ کو پڑھ کر معلوم کر سکتا ہے کہ ظہیر الدین کا اخراج از جماعت اس کتاب یا اس کے ہم معنے کسی ٹریٹ کی بناء پر نہ تھا۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس وقت تک ظہیر الدین نے اس کتاب کے ہم معنی یا اس کے مضمون کے متعلق کوئی ٹریکیٹ شائع ہی نہ کیا تھا، الحکم ظہیر الدین کے اخراج از جماعت اور پھر معافی مانگنے کے متعلق نوٹ لکھتے ہوئے تحریر کرتا ہے :- مولوی ظهیر الدین صاحب نے نبی اللہ کا ظہور اور دید کا فتور اور رو چکڑالوی لکھ کر جو خدمت سلسلہ کی کی ہے۔ وہ اس قابل نہیں کہ ہم اس کو بھول جاویں۔ یہ الفاظ صاف طور پر ظاہر کر رہے ہم اس کو یہ الفاظ صاف طور پر ظاہر کرے ہیں کہ کتاب نبی اللہ کا ظہور ظہیر الدین کے اخراج کا محرک نہ تھی۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اس کے اخراج کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سلسلہ کا یہ سب سے پہلا اخبار کبھی اس کتاب کو ایسے تعریفی الفاظ سے یاد نہ کرتا ۔ ایک اور شہادت جو مولوی محمد علی ایک اور شہادت بھی مولوی محمد علی صاحب کے دعویٰ کے جھوٹے ہونے کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ اگر مولوی صاحب کے اپنے بیان پر مبنی ہے محمد علی صاحب کے نزدیک اس کتاب کے مضامین کی