انوارالعلوم (جلد 6) — Page 127
غلطی نہیں کہلا سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ ظہیر الدین اپنے خطرناک عقائد کی وجہ سے اسلام کی تعلیم سے بہت دور جاپڑا ہے اور مولوی محمد علی صاحب نے خیال کیا ہے کہ اگر میرے خیالات کا نتیجہ قرار دیا جائے تو لوگوں میں عام طور سے ان کے خلاف ایک نفرت پیدا ہوجاوے گی اور مولوی صاحب کے خیالات سے اُنس پیدا ہوجائیگا مگر مولوی صاحب چاند پرخاک نہیں ڈال سکتے اور روشنی کا اندھیرااقرار نہیں دے سکتے۔پس جیسا کہ مَیں ثابت کرچکا ہوں اور جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب خوب جانتے ہیں۔گو وہ اس کا اظہار کرنا خلاف مصلحت خیال کرتے ہیں۔نبوت مسیح موعودؑ کا عقیدہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےوقت سے ہی ظاہر کرتا چلا آیا ہوں۔اورا ٓپ ؑکی وفات کے بعد بھی ۱۹۰۷ء ، ۱۹۰۸ء ،۱۹۰۹ء میں متواتر اس وقیدہ کا اعلان میری طرف سے مختلف مضامین کےذریعہ سے ہوتا رہا ہے اور اس سلسلہ کا سب سے آخری مضمون بھی جسے مولوی صاحب بھی اپنی اغرض ذمیمہ کو پورا کرنے کے لئے اوّل مضمون قرار دیتے ہیں ظہیر الدین کے مضمون کے لکھا جانے سے ایک ماہ پہلے لکھا جا چکا تھا۔اور اس کے مضمون شائع ہونے سےتین ماہ پہلے شائع ہوچکا تھا۔پس اس کو میرے خیالات کا بانی کہنا یا ان عقائد کا جو میں پھیلاتا ہوں موجد قرار دیان ایک ایسی خلاف بیانی ہے جس کی نظیر دُنیا میں بہت کم ملے گی۔ان عقائد کے بانی حضرت مسیح موعودؑہی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے آنے والے مسیح کو نبی اللہ کہا ہے۔نہیں بلکہ خود خدا تعالیٰ ہےجس نے خود مسیح موعودؑ کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔بعض مسیحی مؤرخ تعصب سے اندھے ہوکر دنیا کو دھوکا دینے کیلئے اسلام کو اس وقت کے چند غیر معروف لوگوں کے خیالات کا نتیجہ قرار دینے میں جس جرأت سے کام لے چکے ہیں اس پر تو حیرت آیا ہی کرتی تھی۔مگر چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد کا جو نظارہ مولوی صاحب نے دکھایا ہے وہ ان مسیحیوں کی دیدہ دلیری سے بھی بہت بڑھا ہوا ہےکیونکہ وہ تو زمانہ ماضی کے واقعات کو بگاڑنے کی کوشش کرتے تھے اور مولوی صاحب ان خیالات کے متعلق جن کی تائید ۱۹۰۶ءمیں وہ خود کرچکے ہیں اور جن کا اظہار ان کی موجودگی میں بعد میں متواتر ہوتا رہا ہے ۱۹۱۱ء کےشائع ہونے والے ایک رسالہ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔تاریخ اختلاف سلسلہ کا دوسرا امر کیا حضرت خلیفہ اوّل نے ظہیر کو اسکے رسالہ کی وجہ سے یا نئے عقائد شائع کرنے کی وجہ سے جماعت سے نکالا دوسراامرتاریخ اختلاف سلسلہ میں مولوی صاحب نے یہ لکھا ہے کہ :-