انوارالعلوم (جلد 6) — Page 126
انوار العلوم جلد 4 ۱۲۶ 1911ء آئینه صداقت لکھا جا چکا تھا معز ایڈیٹر بدر 4 اپریل ان کے پرچہ برما میں مولوی ثناء اللہ کا جواب لکھتے ہوئے غیر احمدیوں کے متعلق اپنے عقیدہ کا ذکر فرماتے ہوئے تھتے ہیں۔ اسی مضمون پر جناب حضرت صاحبزادہ محمود حمد صاحب نے ایک مبسوط مضمون لکھ کر حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں پیش کیا ہوا ہے اس میں امید ہے کہ اس مسئلہ کے تمام ضروری پہلوؤں پر فصل بحث ہوگی یہ اخبارات کے متعلق یہ عام قاعدہ ہے کہ ان پر دوسرے روز کی تاریخ دی جاتی ہے کیونکہ اسی روز وہ ڈاکخانہ میں ڈالے جاتے ہیں ہیں یہ اخبار در حقیقت ہر اپریل کا ہے ۔ اور اس میں ایڈیٹر صاحب بدر تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مبسوط مضمون حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں پیش کیا ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نوٹ کے تحریر کرنے سے کچھ عرصہ پہلے یہ مضمون حضرت کی خدمت میں پیش ہو چکا تھا لیس بمضمون مارچ کا لکھا ہوا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ میرا مضمون جو مارچ 911 اثر میں لکھا گیا تھا اور اپریل میں شائع ہوا۔ ظہیر الدین اروپی کے مضمون کا جو اپریل میں لکھا گیا اور جولائی میں شائع ہوا نتیجہ کیونکر ہو سکتا ہے ؟ اور کیا وہ شخص جو دونوں مضامین کی تاریخوں سے واقف ہوتے ہوئے دور دراز کے لوگوں کو دھوکا دینے اور دین سے گمراہ کرنے کے لئے ایک ایسی تحریر کو جو میرے آخری مضمون سے ایک ماہ بعد تحریر میں آئی اور تین ماہ بعد شائع ہوئی میرے مضمون کا باعث اور مأخذ قرار دیتا ہے دیانتدار کہلا سکتا ہے ؟ کیا یہ شخص اس قابل ہے کہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلائے جو شخص دینی معاملات میں بھی اس قدر دلیری سے کام لیتا ہے کہ ایسا صریح دھوکا دینے سے بھی نہیں ڈرتا جو دن کو رات قرار دینے سے نہیں جھینپتا وہ کب اس بات کا استحقاق رکھتا ہے کہ دوسروں کو صداقت کی دعوت دے اور حق کی طرف بلائے۔ میں حیران ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب نے یہ جرات کیونکر کی کہ ظہیر کے مضامین کو میری تحریرات کا ماخذ قرار دیا اور میرے خیالات کو اس کے خیالات کا نتیجہ - وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ میرا مضمون کفر و اسلام کے متعلق اپریل میں شائع ہوا تھا اور بدر اخبار کا مندرجہ بالا نوٹ شاہد ہے کہ یہ میرا مضمون مارچ میں لکھا جا چکا تھا اور ظہیر الدین کی اسی کتاب میں اسی صفحہ پر جس کا وہ حوالہ دیتے ہیں اور اس تحریر سے جس کا وہ حوالہ دیتے ہیں صرف چار سطر نیچے لکھا ہوا موجود ہے۔ کہ یہ کتاب جولائی میں شائع ہوئی ہے اور ان ہندسوں کی نسبت جن کا وہ ذکر کرتے ہیں زیادہ موٹے ہندسوں میں اس نوٹ کی تاریخ درج ہے جو اس کتاب کے شائع کرنے والے نے لکھا ہے یعنی در جولائی ۔ پیس با وجود ایسے صریح بعینات کی موجودگی اور پھر ان کے علم کے مولوی صاب کا ظہیر کی کتاب کو میرے مضمون کا محرک قرار دیا نا واقف لوگوں کو مغالطہ دینے کی نیت سے نہیں تو اور کس غرض دلائل کی غلطی غلطی کہلا سکتی ہے۔ مگر واقعات کے ایک لیے سلسلہ کو بگاڑ کر او اڑ کر اور توڑ مروڑ کر پیش کرنا سے ہے ؟ دلار صا۔