انوارالعلوم (جلد 6) — Page 125
’’تم اپنے امتیازی نشان کو کیوں چھوڑ تے ہو۔تم ایک برگزیدہ کو نبی مانتے ہو اور تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔حضرت صاحبؑ کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں مگر حضرت صاحب ؑ نے فرمایا کہ تم کونسا اسلام پیش کروگے۔کیا جو خدا نے تمہیںنشان دئیے جو انعام خدا نے تم پر کیا وہ چھپاؤگے۔‘‘ ’’ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سے آیا۔اگر اسکی اتباع کرینگے تو وہی پھل پائینگے جو صحابہ کرام کیلئے مقرر ہوچکے ہیں‘‘٭ ان عبارتوں سے میرا مذہب نبوت مسیح موعود علیہ السلام کےمتعلق بخوبی ظاہر ہے اور یہ تقریر خواجہ کمال الدین کے بعد صدر انجمن کی رپورٹ سنائے جانے اور چندہ کی تحریک کا وقت تھا اور یہ لوگ انجمن کے عہدہ دار تھے اسلئے اس وقت خاص طور پر جلسہ میں موجود تھے اور نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت تک ہمیں تمہارے خیالات کا علم نہ تھا۔غرض ۱۹۰۶ءسے لے کر ۱۹۱۰ءکےدسمبر تک میری مختلف تحریرات اس پر شاہد ہیں کہ مَیں ہمیشہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مانتا رہا ہوں۔اس کے بعد ۱۹۱۱ء کے مارچ میں مَیں نے ایک مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہ ماننے والوں کے درجہ کے متعلق لکھا۔جو اپریل ۱۹۱۱ءکے تشحیذاور ۴؍مئی ۱۹۱۱ءکے بدر اور ۱۴ ؍مئی ۱۹۱۱ءکے الحکم میں شائع ہوا۔اور اس کے بعد ایک لمبا سلسلہ مضامین اور تقریروں کا شروع ہوگیا جس کا انکار خود مولوی محمد علی صاحب نے بھی نہیں کیا اور نہ کرسکتے ہیں۔میرے مضامین پر ظہیر الدین کے خیالات کا اثر نہیں اب ان واقعات کی روشنی میں اس معاملہ کو دیکھ کر کوئی شخص کیا یہ خیال کرسکتا ہے کہ ظہیرالدین اروپی کی تعلیم سے متأثر ہوکر اور اس کی کتاب نبی اللہ کا ظہور پڑھ کر میں نے اپنا خیال دوبارہ نبوت مسیح موعودؑ قائم کیا تھا۔ظہیرالدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور جیسا کہ خود مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں کہ ظہیر الدین کا اس مضمون کے متعلق سب سے پہلا رسالہ ہے اور جیسا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں۔اپریل ۱۹۱۱ء میں اس کی تصنیف کا کام ختم ہوا ہے اور اس کتاب کے آخری صفحہ پر ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ ۲۶ ؍اپریل ۱۹۱۱ء کو اس کی تصنیف ختم ہوئی ہے اور پھر اسی صفحہ پر اس کتاب کے شائع کرنے والے چوہدری برکت علی صاحب کی تحریر درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۵ ؍ جولائی ۱۹۱۱ء کے بعد یہ کتاب پریس میں گئی ہے۔اس کے مقابلہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ میرا مضمون مسئلہ کفر و اسلام غیر احمدیاںکے متعلق جو درحقیقت سلسلہ اولیٰ کا اخری مضمون ہے (جیسا کہ پہلے ثابت کیا جاچکا ہے) نہ کہ پہلا۔اپریل ۱۹۱۱ء میں تشحیذ الاذہان میں شائع بھی ہوچکا تھا اور جیسا کہ ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء کے پرچہ بدر کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ثابت ہے۔مارچ ۱۹۱۱ء میں ہی بدر ۱۹ جنوری ۱۹۱۱ص ۷