انوارالعلوم (جلد 6) — Page 121
انوار العلوم جلد 4 ۱۲۱ آئینه صداقت عقائد پرمشتمل تھا جن کو بعد میں وہ مخالف اسلام قرار دیتا ہے کچھ مدت پہلے ایک تعریفی ریویو لکھا تھا جس میں وہ لکھتا ہے کہ اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں۔ ہلے مبرمیں چود صفحوں کا اک انٹروڈکٹ ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ جماعت تو اس کو پڑھے گی مگرمیں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین دلیل کے پیش کرتا ہوں ۔ جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے " پھر اس مضمون کے متعلق لکھتا ہے۔ مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے " پھر لکھتا ہے۔ اب وہ سیاہ دل لوگ جو مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں۔ اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افتراء ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا ، جھوٹ تو ایک گند ہے پس اس کا اثر تو چاہئے تھا کہ گندہ ہوتا نہ یہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی ۔ پھر وہ لکھتا ہے۔ غور کرو کہ جس کی تعلیم اور تربیت کا یہ پھل ہے وہ کا ذب ہو سکتا ہے ؟ دریو یو آف ریلیجز اردو جلد پنجم صفر (۱۰۱) کیا یہ خدا تعالیٰ کا تصرف نہیں ؟ کیا اس کا ہاتھ اس میں نظر نہیں آتا ؟ کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے (۱۱۹-۱۱۸) خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ بات غلط ہے کہ میں نے نبوت کا مسئلہ ظہیر الدین سے سیکھا ہے۔ بلکہ ظہیر الدین کی کتاب نکلنے سے پانچ سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی رسالہ نشین الا زبان کا انٹروڈکشن لکھتے ہوئے میں نے حضرت مسیح موعود کو بطور نبی کے پیش کیا تھا۔ اور اس پر مولوی محمد علی صاحب نے اس کا خلاصہ لکھ کر اس کی تعریف کی۔ اور میرے مذہبی خیالات کو حضرت مسیح موعود کا ایک معجزہ قرار دیا اور دشمنوں کے لئے حجت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مولوی صاحب کے اپنے خیالات اس وقت ہی تھے کہ مرزا صاحب نبی ہیں۔ صرف اسی مضمون پر بس نہیں ۔ میرے اور مضامین بھی ہیں جن میں حضرت صاحب کی نبوت کا میں نے ذکر کیا ہے ۔ چنانچہ - ارمئی اللہ کے بدر میں میرا ایک مضمون چھپا ہے جس کے آخر میں میں نے لکھا ہے : " خدا کے لئے ہوش کرو اور عاجزی سے خدا کی درگاہ میں سر جھکاؤ۔ اور اس کے رسول برحق کے آگے ان الفاظ میں التجا کرو کہ یا مسیح الْخَلْقِ عَد و انا ابد، ارشی ۱۹۰۶ بعثت ، پھر یکم نومبر شاہ کے بدر کے صفحہ ۱۳ پر میرے مضمون المحکم اور وطن میں یہ فقرہ درج ہے ۔ " زمین و آسمان نہ رہیں۔ لیکن یہ خدا کا نبی نا کام نہیں رہے گا۔ ان دونوں حوالوں سے بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی میرا یہ عقیدہ تھا کہ آپ نبی ہیں۔ اور اس عقیدہ کو میں نے مخفی طور پر اپنے دل میں نہیں رکھا ہوا تھا