انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 112

میرا عقیدہ مسئلہ کفر غیر احمدیان کے متعلق میرا عقیدہ ہے کہ کفر درحقیقت خدا تعالیٰ کے انکار کی وجہ سے ہوتا ہے اور جب بھی کوئی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی نازل ہوکہ اس کا ماننا لوگوں کے لئے حجت ہو۔اس کا انکار کفر ہے اور چونکہ وحی کو انسان تب ہی مان سکتا ہے کہ جب وحی لانے والے پر ایمان بھی ضروری ہے۔اورجو نہ مانے وہکافر ہے۔اس وجہ سے نہیں کہ وہ زید یا بکر کو نہیں مانتا۔بلکہ اس وجہ سے کہ اس کے نہ ماننے کے نتیجہ میں اسے خدا تعالیٰ کے کلام کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔میرے نزدیک سب نبیوں کا کُفر اسی باعث سے ہے۔نہ ان کی اپنی ذات کی وجہ سے۔اور چونکہ ایسی وحی جس کا ماننا ضروری ہو۔صرف انبیاءؑ پر ہوتی ہے اس لئے صرف انبیاء کا انکار کُفر ہے نہ اور لوگوں کا۔اور چونکہ میرے نزدیک ایسی وحی جس کا ماننا تمام بنی نوع انسان پر فرض کیا گیا ہے حضرت مسیح موعودؑپر ہوئی ہے اس لئے میرے نزدیک بموجب تعلیم قرآن کریم کے ان کے نہ ماننے والے کافر ہیں کواہ وہ باقی سب صداقتوں کو مانتےہوں۔کیونکہ موجباتِ کفر میں سے اگر ایک موجب بھی کسی میں پایا جاوے تو وہ کافر ہوتا ہے۔ہاں میرے نزدیک کفر کی تعریف یہ ہے کہ ایسے اُصول میں سے کسی اصل کا نہ ماننا جن کے نہ ماننے سے نہ ماننے والا خدا تعالیٰ کا باغی قرار پاوے اور جس کے نہ ماننے سے رُوحانیت مرجائے۔یہ نہیں کہ ایسا شخص ہمیشہ ہمیش کے لئے غیر مجدذوذعذاب میں مبتلا کیاجاوے اور چونکہ اسلام کے احکام کی بناء ظاہر پر ہے اس لئے جو لوگ کسی نبی کو نہیں مانتے۔خواہ اسی وجہ سے نہ مانتے ہوں کہ انہوں نے اس کا نام نہیں سُنا کافر کہلائیں گے گو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مستحق عذاب نہ ہوں گے کیونکہ ان کا نہ ماننا ان کے کسی قصور کی وجہ سے نہ تھا۔چنانچہ سب مسلمان بالا تفاق ان لوگوں کو جو مسلم نہیں ہوئے کواہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا ہو یا نہ سُناہو کافر ہی کہتے چلے آئے ہیں اور آج تک ایک شخص نے بھی آئس لینڈ کےاسکیموز یا امریکہ کےریڈ انڈینزیا افریقہ کے ہائنٹاٹس یا آسڑیا کے وحشیوں کے مسلمان ہونے کا فتویٰ نہیں دیا اور نہ ان ہزاروں لاکھوں عیسائیوں کی نسبت فتویٰ اسلام دیا ہے جو پہاڑوں یا اندرون یورپ کے رہنے والے ہیں اور جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا کوئی علم نہیں۔یہ میرےعقائد ہیں جو درست ہیں یا غلط۔اس پر میں اس جگہ بحث نہیں کرنی چاہتا۔اس پر بحث آگے ہوگی۔اس وقت مَیں نے صرف اپنے عقائد کا اظہار کردیا ہے۔